پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایڈیشنل سیکریٹری سطح پر مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا، جس میں دونوں فریقین نے دہشتگردی کو علاقائی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ بات چیت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے 19 اپریل کو کابل کے دورے کے دوران کیے گئے فیصلوں کی روشنی میں عمل میں آئی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟

پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری برائے افغانستان و مغربی ایشیا سید علی اسد گیلانی نے کی، جبکہ افغان وفد کی قیادت افغان وزارت خارجہ کے پولیٹیکل ڈویژن کے ڈائریکٹر مفتی نور احمد نور نے کی۔ مذاکرات کے دوران دو طرفہ دلچسپی کے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

The inaugural round of the Additional Secretary-Level Mechanism between the Foreign Ministries of Pakistan and Afghanistan was held today in Islamabad pursuant to decisions reached during the visit of the Deputy Prime Minister/Foreign Minister of Pakistan to Kabul, Afghanistan,… pic.

twitter.com/EKMH34xTUY

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) July 7, 2025

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں تجارت، ٹرانزٹ تعاون، سیکیورٹی اور علاقائی روابط جیسے امور زیر بحث آئے۔ دونوں فریقین نے دہشتگردی کو علاقائی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔

پاکستان نے افغان سرزمین پر سرگرم دہشتگرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق ایسے عناصر نہ صرف پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پورے خطے کی ترقی میں رکاوٹ بھی بنے ہوئے ہیں۔

مذاکرات میں تجارتی اور ٹرانزٹ تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستانی وفد نے کابل کے دورے کے دوران کیے گئے وعدوں اور اقدامات پر عملدرآمد کی پیشرفت سے افغان حکام کو آگاہ کیا۔ ان اقدامات میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو فعال کرنے جیسے اہم پہلو شامل تھے۔

دونوں فریقین نے پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے علاقائی روابط کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے منصوبے کی تزویراتی اہمیت کو بھی تسلیم کیا گیا۔ فریقین نے اس منصوبے کے لیے فریم ورک معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ مذاکرات کے دوران افغان شہریوں کی وطن واپسی سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی۔

ترجمان کے مطابق جنوری 2024 سے اب تک مختلف کیٹیگریز میں 5 لاکھ سے زیادہ ویزے جاری کیے جا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان نے پاکستان میں ناظم الامور کو سفیر کا درجہ دینے کا اعلان کردیا

آخر میں دونوں ممالک نے قانونی اور منظم آمدورفت کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل روابط اور گفت و شنید کی اہمیت پر اتفاق کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسحاق ڈار پاکستان افغانستان مذاکرات دفتر خارجہ دہشتگردی سنگین خطرہ قرار وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار پاکستان افغانستان مذاکرات دفتر خارجہ دہشتگردی سنگین خطرہ قرار وی نیوز سلامتی کے لیے سنگین خطرہ کے مطابق کے دوران

پڑھیں:

روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ

طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔

بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ

دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔

افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟