" چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض حسین اور دیگر کےحکومت پاکستان سے معاملات طے پا گئے، عبداللہ گل کا دعویٰ،عمرچیمہ کا بھی تبصرہ آگیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
اسلام آباد (ویب ڈیسک) القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو سزا کے بعدقومی احتساب بیورو(نیب) کے اقدامات کے بعد سے چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض حسین بیرون ملک ہیں اور ماضی میں ان کے بیانات بھی سامنے آئے کہ "چاہے جتنا مرضی ظلم کرلو، ملک ریاض گواہی نہیں دے گا۔ میرا کل بھی یہ فیصلہ تھا، آج بھی یہی فیصلہ ہے" لیکن اب سابق آرمی چیف حمید گل کے صاحبزادے عبداللہ گل نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے حکومت پاکستان کے ساتھ معاملات طے پاگئے ہیں تاہم اس پر سینئر صحافی عمر چیمہ نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ"15 جولائی کوئی دور نہیں، دیکھتے ہیں ملک صاحب کدھر پہنچتے ہیں" جس سے شبہ ہوتا ہے کہ ابھی بھی شاید معاملات سلجھ نہ سکیں اور ملک ریاض کو ریلیف نہ مل سکے جس طرح عبداللہ گل کا دعویٰ ہے۔
تفصیل کے مطابق عبداللہ گل نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں لکھا کہ " چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض حسین، سابق MPA و ڈائریکٹر لینڈ حاجی امجد محمود چوہدری، اور کنٹری ہیڈ محمد شاہد قریشی کے حکومت پاکستان سے معاملات طے پا گئے ہیں،ملک ریاض 15 جولائی 2025 کی شام کراچی پہنچیں گے"۔
یو اے ای کے ویزوں سے متعلق اہم ملاقات طے پا گئی ، وزیر داخلہ سے ملکر حل نکالیں گے،محسن نقوی
????بریکنگ نیوز????
چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض حسین، سابق MPA و ڈائریکٹر لینڈ حاجی امجد محمود چوہدری، اور کنٹری ہیڈ محمد شاہد قریشی کے ???????? حکومت پاکستان سے معاملات طے پا گئے ہیں۔
✈️ ملک ریاض 15 جولائی 2025 کی شام کراچی پہنچیں گے۔
ذرائع کے مطابق ان معاملات میں صدر پاکستان آصف… pic.
لاڑکانہ: ایک ہی خاندان کی 4 بچیاں تالاب میں ڈوب کر جاں بحق
ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا کہ ان معاملات میں صدر پاکستان آصف علی زرداری، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے کلیدی کردار ادا کیا،ملک ریاض کراچی میں حکومت سندھ کی سیکیورٹی میں بلاول ہاؤس میں قیام کریں گے، جب تک اسلام آباد واپسی کی کلیئرنس مکمل نہیں ہو جاتی، اس کے بعد وہ اسلام آباد روانہ ہوں گے"۔
عبداللہ گل کے اس ٹوئیٹ پر صحافی عمر چیمہ نے بھی تبصرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ" 15 جولائی کوئی دور نہیں، دیکھتے ہیں ملک صاحب کدھر پہنچتے ہیں"۔
دو سال میں یہ جھوٹی پریس کانفرنس بھی نہیں کروا سکے کہ عمران خان جیل سے نکلنے کیلئے منتیں کر رہاہے : سینئر تجزیہ کار امیر عباس
15 جولائی کوئی دور نہیں، دیکھتے ہیں ملک صاحب کدھر پہنچتے ہیں https://t.co/TIINgAUAt7
— Umar Cheema (@UmarCheema1) July 7, 2025
یوٹیوبر فلک جاوید کا ’گروک‘ سے شہبازشریف کی شادیوں پر سوال، آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا جواب سوشل میڈیا پر وائرل
عمر چیمہ کے اس تبصرے سے یہ بھی شبہ ہوتاہے کہ ملک ریاض کو اب بھی زیادہ ریلیف ملنے کی توقع نہیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: حکومت پاکستان چیئرمین بحریہ ملک ریاض حسین معاملات طے پا عبداللہ گل ہیں ملک
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔