نیشنل سیونگز اسکیمز میں منافع کی شرحوں میں ردوبدل کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
اشرف خان: نیشنل سیونگز اسکیمز میں منافع کی شرحوں میں ردوبدل کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کا اطلاق 17 ستمبر 2025 سے مؤثر ہوگا۔ سنٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز نے نئی شرحوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
شارٹ ٹرم سیونگز پر شرح منافع میں 6 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ شرح 10.6 فیصد سے بڑھا کر 10.
پاکستان میں مشرق ڈیجیٹل بینک کا آغاز، امارات سے پاکستانی مفت ترسیلات زر بھیج سکیں گے
اس کے برعکس، ڈیفنس سیونگز سرٹیفکیٹس پر شرح منافع میں 12 بیسس پوائنٹس کی کمی کی گئی ہے، اور نئی شرح 11.54 فیصد سے کم ہو کر 11.42 فیصد ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تبدیلیاں حالیہ مانیٹری پالیسی کے تناظر میں کی گئی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھی ہے۔
واضح رہے کہ نیشنل سیونگز کو ملک کا سب سے بڑا مالیاتی ادارہ قرار دیا جاتا ہے، جہاں عوام کی جانب سے اب تک 3400 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے۔
کویتی شہریت سے محروم افراد کے لیے بڑی خوشخبری
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نیشنل سیونگز گیا ہے
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔