ن لیگ، پی پی نے چوہدری انوارالحق کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر دستخط کردیے
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر دستخط کر دیے ہیں، اور امکان ہے کہ یہ تحریک آج ہی قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے اپنے استعفے کے لیے مشروط آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے حامی وزراء اور اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز کی فراہمی اور جاری منصوبوں کی تکمیل کی ضمانت دی جائے تاکہ ان کے حلقوں میں ترقیاتی عمل متاثر نہ ہو۔
تحریکِ عدم اعتماد پیش کیے جانے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے وزراء اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے کر اسمبلی میں اپوزیشن بینچوں پر جا بیٹھیں گے۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی نے تاحال وزارتِ عظمیٰ کے لیے کسی امیدوار کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ تحریکِ عدم اعتماد کے مسودے میں نئے قائدِ ایوان کے نام کے لیے جگہ خالی چھوڑی گئی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق چوہدری یاسین اور چوہدری لطیف اکبر وزارتِ عظمیٰ کے لیے مضبوط امیدوار تصور کیے جا رہے ہیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ آصف علی زرداری کا ایک خصوصی ایلچی مظفرآباد روانہ ہوگا جو پیپلز پارٹی قیادت کی جانب سے نئے وزیراعظم کے نام کا سیل بند خط اپنے ساتھ لے کر جائے گا۔ تحریکِ عدم اعتماد جمع کرانے سے قبل اسی خط میں درج نام کو باضابطہ طور پر مسودے میں شامل کیا جائے گا، کیونکہ آئینی تقاضے کے مطابق تحریکِ عدم اعتماد کے کاغذات میں ہی نئے قائدِ ایوان کا نام لکھنا ضروری ہوتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
پاکستان نے تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں بھی ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے۔لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں پاکستان کے کپتان شاہین آفریدی نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی ہے۔قومی ٹیم کے کپتان شاہین آفریدی کا کہنا تھا آسٹریلیا کے خلاف پہلا ون ڈے جیتنے والی ٹیم کو ہی برقرار رکھا گیا ہے۔خیال رہے کہ پہلے ایک روزہ میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹ سے شکست دی تھی، تین ایک روزہ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔