بھارت کی مذہبی معاملے میں بے جا مداخلت پر چین کا سخت ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
بھارت کی جانب سے چین کے مذہبی معاملے میں مداخلت پر چینی سفیر کا سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔
مودی سرکار کی سرپرستی میں بھارت عالمی سطح پر رسوائی کا شکار ہو رہا ہے۔ بی جے پی کی کتھ پتلی بن کر مودی کی حکومت نے خود بھارت کو انتشار کا شکار بنا دیا ہے اور اب مودی سرکار کی چین کے پرامن خطے کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔
بھارتی عہدیدار کی جانب سے چین کے مذہبی معاملے پر تبصرہ سامنے آنے کے بعد بھارت میں چین کے سفیر ژو فیہونگ نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ا نہوں نے کہا کہ بھارتی حکام کی دلائی لاما سے متعلق حالیہ باتیں چین کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت ہیں۔
چینی سفیر ژو فیہونگ نے کہا کہ دلائی لاما کا سلسلہ نسب چین کے تبت میں ہی تشکیل پایا۔ چین مذہبی امور میں آزادی اور خودمختاری کے اصول پر قائم ہے۔مذہبی عہدوں کی منظوری کا اختیار صرف چین کو حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بیرونی تنظیم یا ریاست کو چین کے معاملات میں مداخلت کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ بھارت کی جانب سے دلائی لاما کے جانشین پر تبصرہ چین کی خودمختاری پر کھلا وار ہے۔ بھارت کا چین کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی کرنا سفارتی آداب کی خلاف ورزی بھی ہے۔
چین کے بدھ مت، تبت اور ژی جیانگ پر بھارتی عہدیداران کا تبصرہ مودی سرکار کی اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی سازش ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: معاملات میں چین کے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔