بھارت کی جانب سے چین کے مذہبی معاملے میں مداخلت پر چینی سفیر کا سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔

مودی سرکار کی سرپرستی میں بھارت عالمی سطح پر رسوائی کا شکار  ہو رہا ہے۔  بی جے پی کی کتھ پتلی بن کر مودی کی حکومت نے خود بھارت کو انتشار کا شکار بنا دیا ہے اور اب مودی سرکار کی چین کے پرامن خطے کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوشش  بھی کی جا رہی ہے۔

بھارتی عہدیدار کی جانب سے چین کے مذہبی معاملے پر تبصرہ سامنے آنے کے بعد بھارت میں چین کے سفیر ژو فیہونگ نے سخت ردعمل    ظاہر کیا ہے۔ا نہوں نے کہا کہ بھارتی حکام کی دلائی لاما سے متعلق حالیہ باتیں چین کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت ہیں۔

چینی سفیر ژو فیہونگ نے کہا کہ دلائی لاما کا سلسلہ نسب چین کے تبت میں ہی تشکیل پایا۔ چین مذہبی امور میں آزادی اور خودمختاری کے اصول پر قائم ہے۔مذہبی عہدوں کی منظوری کا اختیار صرف چین کو حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بیرونی تنظیم یا ریاست کو چین کے معاملات میں مداخلت کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ بھارت کی جانب سے دلائی لاما کے جانشین پر تبصرہ چین کی خودمختاری پر کھلا وار ہے۔ بھارت کا چین کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی کرنا سفارتی آداب کی خلاف ورزی بھی ہے۔

چین کے بدھ مت، تبت اور ژی جیانگ پر بھارتی عہدیداران کا تبصرہ مودی سرکار کی اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی سازش ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: معاملات میں چین کے

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل