بھارت کی چین کے مذہبی معاملات میں مداخلت، چینی سفیر کا شدید ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
بھارت اور چین کے درمیان سفارتی کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب بھارتی حکام کی جانب سے دلائی لاما کے جانشین سے متعلق تبصرے پر بھارت میں تعینات چینی سفیر ژو فیہونگ نے سخت ردعمل دیا ہے۔ چینی سفیر نے بھارتی بیان کو چین کے داخلی مذہبی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے اسے سفارتی آداب کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
مزید پڑھیں: تبتی بدھ بھکشوؤں کے 90 سالہ پیشوا دلائی لامہ اپنے جانشین کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
چینی سفیر ژو فیہونگ نے کہا کہ دلائی لاما کا سلسلہ نسب تبت میں قائم ہوا اور زندہ بدھوں کی دوبارہ پیدائش کا باقاعدہ نظام چینی قانون کے تحت موجود ہے، جس کے مطابق مذہبی عہدوں کی منظوری کا اختیار صرف چین کو حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین مذہبی آزادی اور خودمختاری کے اصول پر سختی سے کاربند ہے اور کسی بیرونی ریاست یا تنظیم کو اس میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
????It has been noted that some Indian official recently made some remarks regarding the reincarnation of the Dalai Lama.
????Chinese government opposes any attempts by overseas organizations or individuals to interfere in or dictate the reincarnation process. Xizang is an… pic.twitter.com/3hlzSOucMO
— Xu Feihong (@China_Amb_India) July 6, 2025
مزید پڑھیں: وسائل کے بغیر جنگ جیتنے کی حکمت عملی
سفیر کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے دلائی لاما کے جانشین پر تبصرہ چین کی خودمختاری پر کھلا وار ہے۔ بدھ مت، تبت اور ژی جیانگ سے متعلق بھارتی تبصرے دراصل مودی سرکار کی اپنی اندرونی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔
چین نے بھارت پر واضح کر دیا ہے کہ مذہبی معاملات اس کا داخلی معاملہ ہیں اور اس میں کسی بھی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت چین چینی سفیر ژو فیہونگ دلائی لاما دلائی لامہ سفارتی کشیدگی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت چین دلائی لاما دلائی لامہ سفارتی کشیدگی دلائی لاما چینی سفیر
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔