بینک کا گوشوارہ آمدن ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں، سپریم کورٹ کا ٹیکس سے متعلق کیس میں فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بینک کا گوشوارہ آمدن ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں، صرف رقم کی منتقلی کو آمدن کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
چیف جسٹس یحییٰ خان آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سپر ٹیکس کیخلاف اسلام آباد اور لاہور ہائیکورٹس میں زیر التوا اپیلیں سپریم کورٹ منتقلی کا حکم
سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ مالی لین دین کا ریکارڈ خود بخود آمدن نہیں کہلاتا، بغیر واضح اور قابل بھروسہ ثبوت کے نوٹس جاری نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ محض شک یا اندازے پر ٹیکس کی جانچ نہیں ہو سکتی، اور اکاؤنٹ میں موجود رقم کو بلاوجہ خفیہ آمدن قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں محکمہ ٹیکس کی نظرِ ثانی کی کارروائی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہاکہ آمدن ثابت کرنے کے لیے مخصوص اور ٹھوس معلومات لازمی ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ معلومات کا براہِ راست تعلق ٹیکس کے قابل آمدن سے ہونا چاہیے، محض بینک کا ریکارڈ قانون کے تحت کارروائی کے لیے کافی نہیں۔
سپریم کورٹ نے محکمہ ٹیکس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے شہری کو رعایت دے دی، اور غیرمصدقہ معلومات پر مبنی کارروائی کو غلط قرار دے دیا۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ ٹیکس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کی ضرورت ہے، ہر اطلاع کی جانچ پڑتال ضروری ہے، ہر کارروائی شفاف ثبوت پر مبنی ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ بحال کردیا
درخواست گزار نے خداداد ہائٹس اسلام آباد کے خلاف ایف بی آر کی کارروائی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ایف بی آر نے بینک اسٹیٹمنٹ کو آمدن قرار دے کر ازسرنو ٹیکس سے متعلق کارروائی شروع کی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انکم ٹیکس ایف بی آر بینک اسٹیٹمنٹ ثبوت جسٹس یحییٰ آفریدی چیف جسٹس رقم کی منتقلی سپریم کورٹ شہری کو ریلیف وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انکم ٹیکس ایف بی ا ر بینک اسٹیٹمنٹ ثبوت جسٹس یحیی ا فریدی چیف جسٹس رقم کی منتقلی سپریم کورٹ شہری کو ریلیف وی نیوز سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کے لیے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔