اسلام آباد(نوائے وقت رپورٹ)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کابینہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران کارکردگی اور احتساب پر مبنی نظامِ حکومت متعارف کرانے پر زور دیا ہے ۔ وزارت خزانہ میں وفاقی حکومت کے ڈھانچے کی تنظیم نو سے متعلق کابینہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو پاکستان کے مالیاتی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔  انہوں نے کہا کہ حکومت وزیرِاعظم کی زیر نگرانی ایف بی آر میں اصلاحات کے منصوبے پر مکمل عزم کے ساتھ عملدرآمد کر رہی ہے تاکہ ٹیکس وصولی کو بڑھا کر مالیاتی خودکفالت حاصل کی جا سکے اور ایف بی آر کو ایک جدید، موثر اور جواب دہ ادارہ بنایا جا سکے ۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور متعلقہ وزارتوں و ڈویژنز کے سینئر حکام شریک ہوئے ۔ اجلاس میں پاور ڈویژن نے پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، جس میں ادارے کی ساخت، اہم ذمے داریاں، نمایاں کامیابیاں اور مستقبل کے منصوبے پیش کیے گئے ۔ اس موقع پر دی گئی پریزنٹیشن میں بجلی کے شعبے میں منصوبہ بندی اور کارکردگی کی مانیٹرنگ کے ایک مضبوط تکنیکی ادارے کے طور پر مستحکم بنانے بالخصوص سائنسی انداز میں پیشگوئی، نظام کی بہتری اور بین الشعبہ جاتی ہم آہنگی پر توجہ دینے پر زور دیا گیا۔ کابینہ کمیٹی کو لا ڈویژن نے بھی اپنی ذمے داریوں، کارکردگی کے معیارات، جاری تنظیمِ نو کی سرگرمیوں اور ان کے عوامی پالیسی اور سروس ڈیلیوری پر اثرات کے حوالے سے ابتدائی بریفنگ دی، جس میں ماتحت اداروں کا جائزہ اور ادارہ جاتی استعداد بہتر بنانے ، اختیارات کا دہرا پن ختم کرنے اور بہتر نتائج کے لیے سادہ اور مؤثر انتظامی ڈھانچے کی تجاویز شامل تھیں۔ علاوہ ازیں کمیٹی نے سلمان احمد، ایمبیسیڈر ایٹ لارج کی سربراہی میں قائم سب کمیٹی کی جانب سے ریونیو ڈویژن سے متعلق ادارہ جاتی اصلاحات پر مشتمل سفارشات پر بھی بحث کی۔ سفارشات میں انتظامی ڈھانچے کو زیادہ موثر بنانے ، انسانی وسائل کے بہتر استعمال اور قومی ترجیحات سے ہم آہنگی کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں کارکردگی پر مبنی نظامِ حکومت اور احتساب کے موثر نظام کی مدد سے عوامی خدمات کی بہتری کی راہ ہموار کرنے پر بھی خاص زور دیا گیا۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایف بی آر کے نظام میں کارکردگی پر مبنی انسانی وسائل کی پالیسیوں کو اپنایا جائے تاکہ سرکاری اخراجات کا ہر روپیہ ٹیکس وصولی، قانون پر عملدرآمد اور عوامی سہولت کی شکل میں واضح بہتری کا باعث بنے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: زور دیا ایف بی

پڑھیں:

راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔

وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

شزا فاطمہ وفاقی وزیر

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم