پوپ لیو چہاردہم کی اسلاموفوبیا اور مہاجر مخالف پالیسیوں پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
روم:پوپ لیو چہاردہم نے یورپ اور امریکا میں بڑھتے ہوئے اسلام مخالف جذبات، نسل پرستی اور مہاجرین کے خلاف سیاسی اقدامات پر شدید تنقید کی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق پوپ نے ترکی اور لبنان کے دورے سے روم واپسی پر پرواز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اسلاموفوبیا دراصل خوف اور نفرت کی سیاست کا نتیجہ ہے، جسے وہ لوگ ہوا دیتے ہیں جو مہاجرین کے داخلے، قوم پرستی اور نسلی امتیاز کو فروغ دیتے ہیں۔
70 سالہ پوپ نے مزید کہا کہ دوسرے مذہب، نسل یا ملک سے تعلق رکھنے والوں سے خوف پیدا کرنا غیر انسانی، غیر اخلاقی اور مسیحی تعلیمات کے خلاف ہے۔
پوپ لیو چہاردہم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تارکین وطن کے حوالے سے سخت گیر پالیسیوں کو بھی غیر انسانی سلوک قرار دیا۔
انہوں نے زور دیا کہ کلیسا کو قوموں کے درمیان سرحدیں کھولنی چاہئیں اور طبقاتی و نسلی دیواروں کو توڑنا چاہیے تاکہ انسانی ہمدردی اور مساوات کو فروغ دیا جا سکے۔
خیال رہےکہ یہ ان کا رواں برس مئی میں پاپائیت سنبھالنے کے بعد پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔