سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک : سندھ حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 12 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ گریڈ 17 سے 22 کے افسران کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ منظور کیا گیا ہے، یہ اضافہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ کے تحت کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد یہ اضافہ یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔ دوسری جانب پنشن میں 8 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔
لاہور میں 229 ٹریفک حادثات؛ 280 افراد زخمی
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 13 جون کو صوبائی اسمبلی میں 3451 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا تھا، جس میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا اعلان کیا گیا تھا۔ بجٹ پیش کیے جانے سے قبل سندھ کابینہ کے اجلاس میں بھی اس فیصلے کی منظوری دی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کی تنخواہوں میں کیا گیا ہے
پڑھیں:
جزوی لاک ڈاون، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی
کیبنٹ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیاں اور دیگر کمرشل تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے۔ اسی طرح ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور سبزی فروشوں کی دکانوں کے لیے رات 11 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم نے ملک بھر میں توانائی بچت مہم کے تحت کاروباری مراکز کی بندش کے نئے اوقات کار کی منظوری دے دی۔ کیبنٹ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیاں اور دیگر کمرشل تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے۔ اسی طرح ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور سبزی فروشوں کی دکانوں کے لیے رات 11 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی، جس کے بعد انہیں بھی بند کرنا ہوگا۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ میڈیکل اسٹورز، آئی ٹی کمپنیاں، تندور، جمز اور فیول اسٹیشنز پر ان اوقات کار کی پابندی لاگو نہیں ہوگی اور وہ حسبِ معمول کام جاری رکھ سکیں گے۔ وفاقی حکومت نے تمام صوبائی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ توانائی کے استعمال میں کمی اور بجلی کی بچت کے قومی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔