سکھر: بارشوں سے دریائے سندھ میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہوناشروع
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت) حالیہ بارشوں کے نتیجے میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ھونا شروع ھوگئی ھے، سکھر اور گڈو بیراج پر فلڈ وارننگ جاری کر دی گئی، جبکہ محکمہ موسمیات کیجانب سے تحریری طور پر مشرقی بلوچستان میں ایک بار پھر سیلابی صورتحال کا خدشہ ظاہر کرتے 7 سے 9 جولائی کے دوران مشرقی بلوچستان میں فلیش فلڈنگ کی وارننگ جاری کر دی، 7 سے 9 جولائی کے دوران پہاڑی برساتی نالوں میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ھے، رواں سال 2022 کے سیلاب سے بھی بڑے سیلاب کی امکانات ھیں ، جاری کردہ الرٹ میں پہاڑی برساتی نالوں میں درمیانے سے اونچے درجے کی طغیانی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔اس حوالے سے پی ڈی ایم اے نے بلوچستان سمیت تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ محکمہ آبپاشی کیمطابق اس وقت گڈو بیراج پر پانی کی آمد: 1,72,596 کیوسک، اخراج: 1,35,775 کیوسک،سکھر بیراج پر پانی کی آمد: 1,33,654 کیوسک، اخراج: 83,034 کیوسک ھے ،جاری کردہ اعداد و شمار کیمطابق تربیلا ڈیم سطح آب: 1520.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پانی کی ا مد
پڑھیں:
آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
بھارت کی ریاست آسام میں شدید مون سون بارشوں اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق شدید سیلابی صورتحال سے کم از کم 50 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً 7 لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔
دریائے برہم پترا کے پانی میں اضافے سے تقریباً 900 دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔ تقریباً 3 لاکھ افراد کو سرکاری ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں خوراک اور امدادی سامان ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے۔
ریاستی دارالحکومت گوہاٹی سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں زیرِ آب آنے سے آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام کے مطابق مسلسل بارشوں اور دریا کی بلند سطح کے باعث صورتحال بدستور تشویشناک ہے اور متاثرہ علاقوں میں مزید امدادی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔