کراچی والے ہوجائیں تیار! محکمہ موسمیات نے مزید بارش کی پیشگوئی کردی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
کراچی میں آج بھی مطلع ابر آلود ہونے سے موسم خوشگوار ہے جبکہ شہر میں وقفے وقفے سے بوندا باندی کا سلسلہ جاری ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون ہوائیں سندھ کے جنوب مشرقی علاقوں میں داخل ہوچکی ہے، تھرپارکر، ننگر پارکر، مٹھی اور ملحقہ علاقوں میں 5 جولائی تک بارش ہوسکتی ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کراچی میں اس دوران ہلکی بارش اور بوندا باندی کا امکان رہے گا جبکہ 8 سے 11 جولائی کے دوران کراچی میں شدت کی بارش ہوسکتی ہے۔
شہر میں بادلوں کے ڈیرے ہیں جبکہ کہیں کہیں پھوار ہونے سے موسم خواش گوار ہے لیکن بعض علاقوں میں حبس کی کیفیت بھی برقرار ہے، ہوا میں نمی کا تناسب 75 فیصد ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں مطلع جزوی ابر آلود، تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، اسلام آباد میں چند مقامات پر موسلادھار بارش بھی ہو سکتی ہے، آج اسلام آباد میں درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ 33 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ 24 گھنٹے میں مری میں سب سے زیادہ 48 ملی میٹر بارش، اسلام آباد ایئرپورٹ پر 29 ملی میٹر ریکارڈ ہوئی، راولپنڈی میں چکلالہ 21، پیرودھائی 08، اٹک میں 14 ملی میٹر بارش ہوئی۔
پنجاب کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ گرج چمک اور بارش کی توقع ہے، خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں بارش، تخت بائی میں 38 اور کاکول میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
کشمیر میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی، مظفر آباد میں 13 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، بلوچستان کے ژوب میں 18 ملی میٹر اور گلگت بلتستان کے استور میں 6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات ملی میٹر بارش اسلام آباد
پڑھیں:
اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے پر ہنگامہ
اسلام آباد کچہری میں سموسے پر چٹنی نہ ڈالنے کے معاملے پر ویٹر اور پولیس اہلکار کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوگیا جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق کچہری میں ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس اہلکار نے سموسے کے ساتھ چٹنی ڈالنے کا کہا، تاہم ویٹر نے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سموسہ پلیٹ 120 روپے کی ہے جبکہ چٹنی شامل کرنے پر قیمت 150 روپے ہوگی۔
ویٹر کے انکار پر دونوں کے درمیان تکرار شروع ہوگئی، جس کے باعث موقع پر موجود افراد کی توجہ بھی اس جانب مبذول ہوگئی۔
واقعے کے بعد وکلاء نے کیفے ٹیریا بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ پولیس اہلکار اور سائلین کھانے کے لیے کچہری آتے ہیں، لیکن کیفے ٹیریا انتظامیہ اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہی ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔