5 سے 8 جولائی تک ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید بارشوں کا امکان اور سیلاب کا خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ مون سون بارشوں کا سلسلہ 2 تا 8 جولائی 2025 تک جاری رہنے کا امکان ہے، اس دوران شدید بارشوں کے سبب بعض علاقوں میں سیلاب کا بھی خطرہ ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق مون سون بارشوں کا یہ سلسلہ 8 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، شمال مشرقی پنجاب میں 5-8 جولائی کو شدید بارشوں کا امکان ہے۔
دوسری طرف محکمہ موسمیات کے مطابق آج اور کل ملک بھر کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے بعض علاقوں میں بارش موسلا دھار ہونے کی توقع ہے۔
آج بروز جمعرات بالائی و جنوبی پنجاب، خطہ پوٹھوہار، جنوب مشرقی سندھ، شمال مشرقی و جنوبی بلوچستان ،کشمیر اور خیبر پختونخوا میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ اس دوران بالائی پنجاب اور جنوبی بلوچستان میں چند مقاما ت پر تیز، موسلادھاربارش کی بھی توقع ہے۔
جمعه کے روز بالائی پنجاب، جنوب مشرقی سندھ، شمال مشرقی و جنوبی بلوچستان ،کشمیر اور خیبر پختونخوا میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ اس دوران کشمیر اور جنوبی بلوچستان میں چند مقاما ت پر تیز اور موسلادھاربارش کی توقع ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بالائی خیبرپختونخوا، پنجاب، اسلام آباد، کشمیر، شمال و مشرقی بلوچستان اور گلگت بلتستان میں گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ چند مقامات پر تیز، موسلادھار بارش ہوئی۔ ملک کے دیگر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا۔
سب سے زیادہ بارش خیبر پختونخوا میں چراٹ 98 ملی میٹر، بنوں 16 میں ملی میٹر، پشاور سٹی میں 01 ملی میٹر، پنجاب کے علاقہ جہلم میں 31 ملی میٹر، منگلا میں 29 ملی میٹر، اٹک، ملتان سٹی میں 14ملی میٹر، اسلام آباد میں (ایئرپورٹ 06، گولڑہ، زیروپوائنٹ 01ملی میٹر)، گجرات میں 04ملی میٹر، راولپنڈی میں (چکلالہ، پیروداھی 03ملی میٹر)، چکوال میں 02 ملی میٹر، سیالکوٹ، منڈی بہاؤالدین میں 01ملی میٹر، کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں (ایئرپورٹ 20، سٹی 18ملی میٹر)، راولاکوٹ میں 05ملی میٹر، کوٹلی میں 02ملی میٹر، بلوچستان کے علاقے خضدار میں 15 ملی میٹر، ژوب میں 06 ملی میٹر،گلگت بلتستان کے علاقے استور میں 06 ملی میٹر اور اسکردو میں 01ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
گزشتہ روز زیادہ سےزیادہ درجہ حرارت نوکنڈی 48، دالبندین 47، دادو،سبی اور چلاس میں 44ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بارش سیلاب مون سون پاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیلاب مون سون پاکستان گرج چمک کے ساتھ بارش جنوبی بلوچستان کا امکان ہے علاقوں میں بارشوں کا ملی میٹر
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔