دریائے سندھ میں بھکر کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب، فلڈ وارننگ جاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
بھکر:
دریائے سندھ میں بھکر کے مقام پر فلڈ سیزن کی اب تک کی سب سے زیادہ پانی کی آمد ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث نچلے درجے کا سیلاب درمیانے درجے کے قریب پہنچ چکا ہے۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق چشمہ بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 83 ہزار 656 کیوسک جبکہ اخراج 3 لاکھ 62 ہزار 456 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایس ای انہار بھکر کے مطابق سپر بند کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور فلڈ کیمپوں میں عملہ ہمہ وقت تعینات ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر بھکر محمد اشرف نے بتایا کہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں دریائے سندھ کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ٹیمیں اور فلڈ کنٹرول سیل مکمل طور پر الرٹ ہیں، جبکہ فلڈ وارننگ بھی جاری کر دی گئی ہے۔
ڈی سی بھکر نے کچہ اور نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر عوام کو محتاط رہنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کی ہدایت کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تحصیل بھکر، کلورکوٹ اور دریا خان کے نشیبی علاقوں کی مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔