لاہور میں صبح سویرے موسلادھار بارش، نشیبی علاقے زیر آب
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (این این آئی) لاہور سمیت پنجاب بھر میں صبح کے وقت موسلادھار بارش سے گرمی کی شدت میں کمی آگئی جبکہ نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ لاہور میں بارش تھمنے کے ساتھ ہی حبس کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ شہر میں سب سے زیادہ بارش 52ملی میٹر نشتر ٹائون میں ریکارڈ کی گئی ۔شہر کے دیگر علاقوں جیل روڈ پر 43ملی میٹر، قرطبہ چوک میں 41، گلبرگ میں 40، ائرپورٹ پر 34ملی میٹر، گلشن راوی میں 31، لکشمی چوک میں 26، اقبال ٹائون میں 24، سمن آباد میں 16، جوہر ٹائون میں 13، اپر مال میں 2، مغلپورہ میں 4، تاجپورہ میں 3، پانی والا تالاب اور فرخ آباد میں 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسی رضا نے پانی کے نکاس کے لیے واسا کو ہدایات جاری کر دیں۔ ایم ڈی واسا غفران احمد کی نکاسی آب آپریشن کی لمحہ بہ لمحہ مانیٹرنگ جاری ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق اب تک لاہور بھر میں اوسط بارش 21ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مزید بارش کے امکانات ہیں۔ پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ مون سون کی بارشوں کا یہ سلسلہ 10جولائی تک جاری رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔