data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور: پنجاب حکومت نے اسپتالوں میں دوران ڈیوٹی نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔

 وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت لاہور میں اجلاس ہوا جس میں سی ایم ہیلتھ ویجی لینس اسکواڈ کے قیام کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ڈیوٹی کے دوران نرسز اورپیرا میڈیکل اسٹاف کے لیے موبائل فون کے استعمال پر بھی پابندی ہوگی۔

وزیر اعلیٰ نے اسپتالوں میں موبائل فون کے بجائے رابطے کے لیے پیجر سسٹم نافذ کرنےکا حکم بھی دیا۔

مریم نواز نے 2 روز کے اندر اسپتالوں میں ریڈ اور بلیو کوڈ ایمرجنسی سسٹم نافذ کرنےکا حکم دے دیا۔

انہوں نے ہر ٹیچنگ اور ڈسٹرکٹ اسپتال میں وینٹی لیٹر مہیا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہارٹ کنسلٹنٹ اور سرجن ہفتے میں 2 بار ڈسٹرکٹ اسپتالوں میں ڈیوٹی دیں گے، مریضوں کو علاج کے لیے دوسرے شہر جانےکا کہنا ظلم ہے، اب ایسے نہیں ہوگا ۔

انہوں نے اسپتالوں کے ایکوپمنٹ آڈٹ، ڈیتھ آڈٹ، لیب آڈٹ، نرسنگ آڈٹ اور ریکارڈ آڈٹ کی ہدایت کی اور کہا کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ایم ایس کی تعیناتی کے لیے سیکرٹری ہیلتھ خود انٹرویو لیں ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: موبائل فون کے اسپتالوں میں کے لیے

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی