آسٹریلیا : 16 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کینبرا (انٹرنیشنل ڈیسک) آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر افراد پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کے قانون کے تحت ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ عمر کی تصدیق کے لیے مختلف طریقے اختیار کریں۔ حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہر صارف سے عمر کی تصدیق کے لیے سخت یا عمومی طریقے اپنانے کے بجائے مصنوعی ذہانت اور صارف کے آن لائن رویے پر مبنی موجودہ ڈیٹا استعمال کریں تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ کون سے صارفین کم عمر ہیں۔ آسٹریلوی انٹرنیٹ نگران ادارے ای سیفٹی کی کمشنر جولی اِنمن گرانٹ کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیاں اشتہارات کے لیے صارفین کو بڑی درستگی سے ہدف بنا سکتی ہیں، تو وہی ٹیکنالوجی بچوں کی عمر کا اندازہ لگانے کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔بالغ صارفین کے لیے دوبارہ عمر کی تصدیق کا تقاضا غیر معقول ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔