پنجاب: دوران ڈیوٹی نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی لگانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
پنجاب حکومت نے صوبے کے اسپتالوں میں دورانِ ڈیوٹی نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
یہ فیصلہ لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جس میں صحت عامہ کے نظام کی بہتری کے لیے اہم اقدامات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں سی ایم ہیلتھ ویجیلینس اسکواڈ کے قیام کی اصولی منظوری بھی دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کی میو اسپتال آمد، مریضوں کی شکایات پر میڈیکل سپرنٹینڈنٹ برطرف
وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہدایت جاری کی کہ اسپتالوں میں عملے کے باہمی رابطے کے لیے موبائل فون کے بجائے پیجر سسٹم نافذ کیا جائے تاکہ کام کی رفتار اور مریضوں کی نگہداشت میں خلل نہ پڑے۔
انہوں نے 2 روز کے اندر اندر صوبے کے تمام اسپتالوں میں ریڈ اور بلیو کوڈ ایمرجنسی سسٹم نافذ کرنے کا بھی حکم دیا۔ اس موقع پر مریم نواز نے ہدایت کی کہ ہر ٹیچنگ اور ضلعی اسپتال میں وینٹی لیٹرز کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہارٹ کنسلٹنٹس اور سرجنز ہفتے میں کم از کم دو بار ضلعی اسپتالوں میں خدمات انجام دیں، کیونکہ مریضوں کو علاج کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور کرنا سراسر ظلم ہے، اور اب ایسا نہیں ہونے دیا جائےگا۔
انہوں نے اسپتالوں میں ایکوپمنٹ آڈٹ، ڈیتھ آڈٹ، لیب آڈٹ، نرسنگ آڈٹ اور ریکارڈ آڈٹ کرانے کی بھی ہدایت دی، تاکہ نظام میں شفافیت اور بہتری لائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے سرکاری اسپتالوں سے اسمگل شدہ ادویات و آلات پشاور سے برآمد
مزید برآں انہوں نے حکم دیا کہ چیف ایگزیکٹو آفیسرز اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کی تقرری کے لیے سیکریٹری صحت بذاتِ خود انٹرویو لیں تاکہ اہل اور ذمہ دار افسران کا انتخاب ممکن بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پنجاب پیرامیڈیکل اسٹاف مریم نواز موبائل فون پر پابندی نرسز وزیراعلٰی پنجاب وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیرامیڈیکل اسٹاف مریم نواز موبائل فون پر پابندی وی نیوز اسپتالوں میں موبائل فون مریم نواز کے لیے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔