ہم امریکہ کو ایران کیخلاف جارحیت کا اصلی ذمےدار سمجھتے ہیں، جنرل ابوالفضل شکارچی
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
عرب میڈیا سے اپنی ایک گفتگو میں ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر دشمن اپنے دعوے میں سچا ہے اور جمہوری اقدار کا بھی علمبردار ہے تو اسے چاہئے کہ دنیا کو حملہ شدہ اڈے کا معائنہ کرنے کی اجازت دے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سینئر ترجمان جنرل "ابوالفضل شکارچی" نے کہا کہ دشمن اور صیہونی رژیم جان لے کہ اس کا مقابلہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں سے ہے جو کبھی بھی ہار قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار عرب میڈیا چینل المیادین سے گفتگو میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ایران کے خلاف حالیہ دراندازی میں امریکہ کے کردار کا ذکر کیا۔ اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ کو ایران کے خلاف جارحیت کا اصلی ذمے دار سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل و امریکہ کے ساتھ 12 روزہ جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جنگ کے دنوں میں بارھا اس بات پر زور دیا کہ ہم کبھی بھی جارحیت کا آغاز نہیں کریں گے تاہم پہل کرنے والے کو بھیانک سبق ضرور سکھائیں گے۔
جنرل ابوالفضل شکارچی نے مزید کہا کہ فوجی کارروائیوں کے رکنے کے بعد، یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنگ بندی تب ہوئی جب دشمن کو ہماری افواج کی جانب سے شدید نقصان پہنچا۔ انہوں نے قطر سے دوستی کا یقین دلاتے ہوئے اس بات کو بھی چھیڑا کہ ہماری فورسز نے العدید ہوائی اڈے پر حملے کے ذریعے امریکہ کو خاطرخواہ نقصان پہنچایا۔ ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان نے کہا کہ اگر دشمن اپنے دعوے میں سچا ہے اور جمہوری اقدار کا بھی علمبردار ہے تو اسے چاہئے کہ دنیا کو حملہ شدہ اڈے کا معائنہ کرنے کی اجازت دے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ جنرل ابوالفضل شکارچی نے دشمن کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری افواج کسی بھی دراندازی کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ہمارا جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہو گا جسے ہم عملی طور پر میدان میں ثابت کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔