دستور گالم گلوچ، گریبان پکڑنے کی اجازت نہیں دیتا، طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
وفاقی وزیر مملکت برائے امور داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ دستور گالم گلوچ اور گریبان پکڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔
اسلام آباد سے جاری بیان میں طلال چوہدری نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، گالم گلوچ ناقابل برداشت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے مذکورہ ارکان کے خلاف ریفرنس بھیجا ہے، اسمبلیوں کو گالم گلوچ کا اکھاڑہ بنایا جارہا ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ دستور گالم گلوچ، گریبان پکڑنے کی اجازت نہیں دیتا، اپوزیشن کے رویے نے اسپیکر کو انتہائی اقدام پر مجبور کیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دور میں پنجاب اسمبلی قائمہ کمیٹیوں کے بغیر چلتی رہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گالم گلوچ
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں