شہباز شریف کا بانی پی ٹی آئی کیخلاف 10 ارب ہرجانہ کیس، لیگل نوٹس کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست منظور
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
فائل فوٹو
سیشن عدالت لاہور میں وزیراعظم شہباز شریف کے بانی پی ٹی آئی کے خلاف 10 ارب ہرجانے کے کیس میں عدالت نے لیگل نوٹس کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی وزیراعظم کی درخواست منظور کر لی۔
عدالت نے لیگل نوٹس کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت دے دی، شہباز شریف نے لیگل نوٹس کو دعوے کے ساتھ ریکارڈ کا حصہ بنانے کی استدعا کی تھی۔
وکیل نے جب شہباز شریف سے یہ پوچھا کہ پاناما کیس کا فیصلہ کیا ہوا تھا؟ تو شہباز شریف نے جواب دیا کہ پاناما کیس ان کے خلاف نہیں تھا اس لیے فیصلے کا علم نہیں۔
وزیراعظم پر جرح کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل محمد حسین نے اعتراض کیا تھا۔
وکیل کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے بانی پی ٹی آئی کو لیگل نوٹس نہیں بھجوایا، لیگل نوٹس بھجوائے بغیر دعویٰ قابل سماعت نہیں۔
خیال رہے کہ شہباز شریف نے پاناما لیکس پر 10 ارب کی پیشکش کے الزام پر بانی پی ٹی آئی کے خلاف دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ریکارڈ کا حصہ بنانے کی شہباز شریف بانی پی ٹی
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔