کینیڈین جوڑے کا 13 سال پرانا پیغام بوتل سمیت آئرلینڈ کے ساحل پر مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کینیڈا سے پھینکا گیا محبت بھرا پیغام 13 سال بعد آئرلینڈ کے ساحل پر جا پہنچا اور ایک خوبصورت اتفاق نے دو جوڑوں کو آپس میں جوڑ دیا۔
ستمبر 2012 میں، انیتا اور براڈ نامی ایک نوجوان جوڑا کینیڈا کے بیل آئی لینڈ کی سیر کے دوران ایک بوتل میں پیغام رکھ کر بحر اوقیانوس میں بہا دیتے ہیں۔ پیغام میں لکھا تھا کہ وہ یہاں کھانے سے لطف اندوز ہوئے اور اگر کسی کو یہ پیغام ملے تو وہ ضرور رابطہ کرے۔
وقت گزرتا گیا اور 13 سال بعد، آئرلینڈ کے ساحلی علاقے Scraggane Bay میں کیٹ اور جان گرے نامی جوڑے کو ساحل کی صفائی کے دوران وہی بوتل ملتی ہے۔ بوتل کے اندر موجود پیغام نے انہیں حیران کر دیا۔ فوراً انہوں نے اس پر دیے گئے نمبر پر کال کی، مگر کوئی جواب نہ ملا۔
انہوں نے اس کے بعد ایک ماحولیاتی فیس بک گروپ پر یہ کہانی شیئر کی اور وہیں سے کہانی نے ایک نیا موڑ لیا۔ کچھ ہی گھنٹوں میں کینیڈا میں موجود انیتا اور براڈ کے دوستوں نے انہیں اس پوسٹ کے بارے میں آگاہ کیا۔
آج انیتا اور براڈ شادی شدہ ہیں، کینیڈا کے علاقے نیو فاؤنڈ لینڈ میں رہائش پذیر ہیں اور ان کے تین بچے ہیں۔ براڈ، جو اب رائل کینیڈین ماؤنٹیڈ پولیس سے ریٹائر ہو چکے ہیں، نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سب کچھ ان کے لیے بھی کسی خواب جیسا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب فون آیا تو وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو سلا رہے تھے، اور جیسے ہی ان کی بیوی انیتا نے سوشل میڈیا پر یہ پوسٹ دیکھی تو خوشی کے مارے قہقہہ لگا بیٹھی۔
یہ کہانی صرف ایک بوتل یا پیغام کی نہیں، بلکہ اس بات کی ہے کہ وقت، فاصلہ اور سمندر بھی اگر چاہیں تو انسانوں کے درمیان ایک خوبصورت رابطہ بنا سکتے ہیں۔ براڈ کا کہنا ہے: “ہماری عمر بڑھ چکی ہے، مگر ہماری محبت آج بھی ویسی ہی ہے جیسی اُس دن تھی جب ہم نے وہ بوتل سمندر کے حوالے کی تھی۔”
اور اب، وہ دونوں آئرلینڈ جانے کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ اپنے ان نئے دوستوں سے مل سکیں جنہوں نے ان کے ماضی کی یاد تازہ کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔