راولپنڈی: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نشان امتیاز (ملٹری) کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس منعقدہوئی۔آئی ایس پی آرکے مطابق فورم نے بھارتی سپانسرڈ پراکسیوں کے ہاتھوں حالیہ دہشت گردانہ حملوں میں شہید ہونے والوں کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور دہشت گرد پراکسیوں کے خلاف فورسز کی حالیہ کامیابیوں کا جائزہ لیا
فورم نے عزم ظاہر کیا کہ ہمارے شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، پاکستان کے عوام کا تحفظ اور سلامتی مسلح افواج کی اولین ترجیح ہے۔
فورم نے اس بات پر زور دیا کہ بھارتی حمایت یافتہ اور اسپانسرڈ پراکسیز کے خلاف ہر سطح پر فیصلہ کن اور جامع کارروائیاں جاری رکھنا ناگزیر ہے۔
فورم نے کہاکہ پہلگام واقعے میں واضح شکست کے بعد، بھارت اب فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی پراکسیز کے ذریعے اپنے مذموم ایجنڈے کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
فیلڈمارشل نے وزیر اعظم پاکستان کے ہمراہ ایران، ترکیہ ، آذربائیجان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حالیہ کامیاب دوروں پر پاکستان کے فعال سفارتی کردار کی تفصیلات سے فورم کو آگاہ کیا ۔
فورم کوفیلڈمارشل کے تاریخی اور منفرد دورہ امریکہ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ دورہ امریکہ کے دوران اعلیٰ سطحی امریکی قیادت کو پاکستان کا دو طرفہ معاملات، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر پاکستان کا بامقصد مؤقف براہِ راست پیش کیا گیا ۔
فورم نے مشرق وسطیٰ اور ایران کی حالیہ پیش رفت کے تناظر میں، داخلی و خارجی سلامتی کے اُمور کا تفصیلی جائزہ لیا ، جس میں ‘طاقت کے استعمال  کے بڑھتے ہوئے عالمی رجحان کو بحثیت ایک ترجیحی پالیسی ٹول کے طور پر استعمال کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔فورم نے کہاکہ یہ بدلتا رجحان پاکستان کے لئے نہ صرف خود انحصاری کی صلاحیتوں کو بڑھانے بلکہ قومی اتحاد اور عزم کی اہمیت کو ناگزیر کرتا ہے ۔
فیلڈمارشل نے کہاکہ بھارت کی طرف سے دوطرفہ فوجی کشیدگی میں کسی تیسرے فریق کو شامل کرنا بھارت کی بلاک پولیٹکس کو فروغ دینے کی بے بنیاد کوشش ہے، اس بھونڈی کوشش کا مقصد بھارت کا خطے میں نیٹ سیکورٹی پرووائڈر کے خود ساختہ کردار کو گمراہ طور پر پیش کرنا ہے، درحقیقت دنیا واضح طور پر بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور ہندوتوا انتہاپسندی کے خطرناک رجحانات سے بدظن ہوتی جا رہی ہے۔
فورم کو جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت اور ابھرتے ہوئے خطرات کے پیش نظر پاک فوج کی حکمت عملی اور جدتوں کے بارے میں بریف کیا گیا۔
فیلڈمارشل نے ٹرائی سروسز ہم آہنگی کو مزید مضبوط کرنے میں پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کی قیادت کو بھی سراہا۔
کانفرنس کے اختتام پر فیلڈمارشل نے ملک کو درپیش تمام خطرات کے خلاف پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

Post Views: 8.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: فیلڈمارشل نے پاکستان کے فورم نے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • پاکستانی نژاد سعدیہ زاہدی عالمی ایئرلائنز تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر