بابا گورو نانک کے جنم دن کی تقریبات، صوبائی وزرا اور اعلیٰ حکام کا ننکانہ صاحب کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
سکھوں کے روحانی پیشوا بابا گورو نانک دیو جی کے جنم دن کی تقریبات 3 نومبر سے شروع ہوں گی، اس سلسلے میں صوبائی وزرا نے افسران کے ہمراہ ننکانہ صاحب کا دورہ کیا، اور انتظامات کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر اجلاس کی صدارت چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق اور وزیرِ اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کی، جبکہ کمشنر لاہور ڈویژن مریم خان اور آر پی او شیخوپورہ اطہر اسماعیل بھی وفد کے ساتھ موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: گرو نانک کے 555 ویں جنم دن کے موقع پر یادگاری سکہ جاری
اجلاس میں انتظامی افسران، امن کمیٹی ممبران اور سکھ رہنماؤں نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ اور ڈی پی او فراز احمد نے انتظامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بابا گورو نانک کے جنم دن کی تقریبات 3 سے 6 نومبر تک جاری رہیں گی اور تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
بریفنگ کے مطابق 5 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات ہوں گے، شہر میں سی سی ٹی وی کیمرے اور تین کنٹرول رومز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ صفائی ستھرائی، کھانے اور رہائش کے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ گوردواروں میں ہسپتال اور فسیلیٹیشن ڈیسک بھی قائم ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق موک ایکسرسائز بھی مکمل کر لی گئی ہے اور ننکانہ شہر کو گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھا جائے گا، جبکہ افسران کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ گوردوارہ جات کو عرقِ گلاب سے دھویا جا رہا ہے۔
تقریبات کا آغاز اکھنڈ پاٹ سے ہوگا جبکہ 5 نومبر کو مرکزی تقریب گوردوارہ جنم استھان میں ہوگی اور نگر کیرتن کا جلوس بھی نکالا جائے گا۔
سردار رمیش سنگھ اروڑہ کے مطابق بھارت سے 2100 سکھ یاتری واہگہ بارڈر کے ذریعے شرکت کے لیے آئیں گے جبکہ مجموعی طور پر 30 ہزار یاتریوں کی آمد متوقع ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ یاتریوں کو مقررہ نرخوں پر اشیا کی فراہمی، ٹریفک پلان اور فسیلیٹیشن کاؤنٹرز میں اضافہ یقینی بنایا جائے۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب اقلیتوں کے تمام ایونٹس میں ذاتی دلچسپی رکھتی ہیں اور جنم دن کی تقریبات کے انتظامات انہی کی ہدایت پر دیکھے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارتی سکھ یاتری حکومت پاکستان کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
انہوں نے کہاکہ بابا گورو نانک دیو جی کا ہر مذہب احترام کرتا ہے اور ننکانہ صاحب آکر سکھ برادری سے یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سکھ یاتریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے، اہلکار خوش اخلاقی سے فرائض انجام دیں اور لاہور و فیصل آباد کے ہسپتالوں میں سکھ یاتریوں کے لیے خصوصی وارڈز قائم کیے جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بابا گرونانک جنم دن تقریبات صوبائی وزرا ننکانہ صاحب کا دورہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنم دن تقریبات ننکانہ صاحب کا دورہ وی نیوز جنم دن کی تقریبات بابا گورو نانک ننکانہ صاحب
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔