وزارت اقتصادی امور کے مطابق یہ پروگرام یورپی یونین کی گلوبل گیٹ وے اسٹریٹجی، جی ایس پی پلس وعدوں اور یورپی یونین گرین ڈیل سے ہم آہنگ ہے اور پائیدار سرمایہ کاری اور مضبوط سپلائی چینز کے فروغ کو یقینی بنائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ یورپی یونین بہتر طرز حکمرانی اور کاروباری ماحول کے پروگرام کے لیے پاکستان کو 20 ملین یورو دے گا، حکومتِ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان گرانٹ معاہدے پر دستخط ہو گئے۔ وفاقی وزارت اقتصادی امور کے مطابق معاہدے کے تحت "بہتر طرزِ حکمرانی اور کاروباری ماحول" کے عنوان سے پروگرام شروع کیا جائے گا، یہ معاہدہ پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کے لیے دونوں فریقین کے مشترکہ عزم کی توثیق ہے۔ مذکورہ معاہدے پر یورپی یونین کی سفیر ڈاکٹر رینا کیونکا اور سیکریٹری اقتصادی امور ڈویژن ڈاکٹر کاظم نیاز نے دستخط کیے اور یہ منصوبہ یورپی یونین کے طویل مدتی اشارتی پروگرام 2021-2027ء کے تحت مالی معاونت حاصل کرے گا۔

یورپی یونین کا اس معاہدے کا مقصد پاکستان کے نجی شعبے، بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) جن میں خواتین کی زیر قیادت یا خواتین کو فائدہ پہنچانے والے کاروبار شامل ہیں اور ان کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ منصوبے کے تحت ایس ایم ایز سے متعلق قانون سازی کو مضبوط کیا جائے گا، برآمدات پر مبنی صنعتوں کو گرین اکانومی کی طرف منتقل کرنے میں مدد دی جائے گی، سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا اور نجی و سرکاری شعبے کے درمیان مکالمے کو فروغ دیا جائے گا۔ وزارت اقتصادی امور کے مطابق یہ پروگرام یورپی یونین کی گلوبل گیٹ وے اسٹریٹجی، جی ایس پی پلس وعدوں اور یورپی یونین گرین ڈیل سے ہم آہنگ ہے اور پائیدار سرمایہ کاری اور مضبوط سپلائی چینز کے فروغ کو یقینی بنائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اور یورپی یونین جائے گا

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا