پٹوار سرکلز میں غیر قانونی عمل، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر کو طلب کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
پٹوار سرکلز میں غیر قانونی عمل، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر کو طلب کر لیا WhatsAppFacebookTwitter 0 17 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ میں وفاقی دارالحکومت کے پٹوار سرکلز میں پرائیویٹ افراد کے ذریعے سرکاری امور انجام دیے جانے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔
سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔عدالت نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
دورانِ سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد کے پٹوار خانوں میں 45 سیٹوں پر صرف 9 پٹواری کام کر رہے ہیں جبکہ پٹواریوں نے اپنے طور پر منشی رکھے ہوئے ہیں۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اسلام آباد کی پوسٹیں کسی اور صوبے کی نہیں ہیں، یہ لوکل پوسٹیں ہیں، فیڈرل کیڈر کی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا جائے تو یہ 9 پٹواری جیل چلے جائیں گے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ چیف کمشنر کو تو فائدہ ہے کہ 9 افراد سے 45 افراد کا کام لیا جا رہا ہے، پورا نظام ہی ایمان داری کے بجائے بدنظمی پر چل رہا ہے۔بعد ازاں عدالت نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسعودی ولی عہد کی دعوت پر وزیر اعظم شہباز شریف سرکاری دورے پر ریاض روانہ سعودی ولی عہد کی دعوت پر وزیر اعظم شہباز شریف سرکاری دورے پر ریاض روانہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسٹس طارق جہانگیری کو کام سے روکنے کا تحریری حکم نامہ جاری جسٹس طارق جہانگیری کی سماعت کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ حصول کی درخواست دائر سی پیک کے تحت چلنے والے پراجیکٹ ایس ۔کے ۔ ہائیدروپاور اسٹیشن کے کمرشل آپریشن کا ایک سال بنوں اور کرک میں دہشت گردوں کے تھانوں پر حملے ناکام، 3 دہشت گرد ہلاک، 4 زخمی ہمارے منجمد اثاثوں کو یوکرین کی جنگی امداد کیلئے استعمال کرنے پر سخت کارروائی کریں گے، روسCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔