پائیدار ترقی کے عزم نو کے ساتھ یو این اعلیٰ سطحی سیاسی فورم کا خاتمہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 25 جولائی 2025ء) پائیدار ترقی پر اقوام متحدہ کا اعلیٰ سطحی سیاسی فورم (ایچ ایل پی ایف) نیویارک میں ختم ہو گیا ہے جس میں رکن ممالک نے 2030 کے عالمی ترقیاتی ایجنڈے پر موثر عملدرآمد کے عزم کی توثیق کی ہے۔
ایک ہفتہ جاری رہنے والے اس فورم میں رکن ممالک، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور اقوام متحدہ کے اداروں نے پائیدار ترقی کے اہداف پر اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور اس سمت میں کیے جانے والے اقدامات کی رفتار بڑھانے پر بات چیت کی۔
فورم کے آخری روز ایک وزارتی اعلامیے کی منظوری بھی دی گئی جس کے حق میں 154 ووٹ آئے۔ امریکہ اور اسرائیل نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ پیراگوئے اور ایران رائے شماری میں غیرحاضر رہے۔ Tweet URLاس اعلامیے میں رکن ممالک نے کہا ہے کہ 2030 کا ایجنڈا پائیدار ترقی کے حصول اور دنیا کو درپیش بہت سے بحرانوں پر قابو پانے کا وسیع تر لائحہ عمل ہے اور وہ اس پر عملدرآمد کے عہد کی توثیق کرتے ہیں۔
(جاری ہے)
'ایچ ایل پی ایف' کے 15 سالاقوام متحدہ کی معاشی و سماجی کونسل (ایکوسوک) کے زیراہتمام 'ایچ ایل پی ایف' کا انعقاد 2010 سے ہو رہا ہے جس میں پائیدار ترقی کے 17 اہداف پر پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے جو 2015 میں طے کیے گئے تھے۔
امسال اس فورم میں پانچ اہداف خصوصی طور پر زیرغور آئے جن میں صحت و بہبود، صںفی مساوات، باوقار روزگار اور معاشی ترقی، زیرآب زندگی اور شراکتیں شامل ہیں۔
فورم کے اعلامیے کی دستاویز پر بات چیت چیک ریپبلک اور سینٹ ونسنٹ و گرینیڈیئنز کے نمائندوں کی قیادت میں ہوئی جنہوں نے پائیدار ترقی کے حوالے سے اس کی اہمیت کو واضح کیا۔اقوام متحدہ میں چیک ریپبلک کے مستقل نمائندے جیکب کولہانک نے کہا کہ رواں سال ہونے والی بات چیت خاص اہمیت کی حامل ہے کہ پائیدار ترقی کے ایجنڈے کی منظوری کو دس سال مکمل ہو گئے ہیں اور بہت سے باہم پیوست مسائل سے ان اہداف کے حصول کی جدوجہد کو خطرہ لاحق ہے۔
غربت اور موسمیاتی بحرانوزارتی اعلامیے میں رکن ممالک نے کہا ہے کہ پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کی مقررہ مدت ختم ہونے میں بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے۔ سیکرٹری جنرل نے فورم کے پہلے روز اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اب تک صرف 18 فیصد اہداف پر پیش رفت ہی تسلی بخش ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ غربت پائیدار ترقی کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ ہے اور بگڑتا موسمیاتی بحران ترقیاتی ایجنڈے کے ہر پہلو کو متاثر کر رہا ہے اور یہ دونوں دنیا کو درپیش بہت بڑے مسائل ہیں۔
رکن ممالک نے کہا ہے کہ ترقی امن و سلامتی کی بدولت ہی ممکن ہے اور حصول امن میں مضبوط انتظام اور شراکتوں کا اہم ترین کردار ہے۔ اسی طرح، پائیدار ترقی کے بغیر امن اور سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
کثیرالفریقیت کے تحفظ کا عزمرکن ممالک نے کہا ہے کہ کثیرالفریقیت کو لاحق خطرات کی موجودگی میں یہ اعلامیہ اس نظام کو تحفظ دینےکے لیے اقوام متحدہ کے عزم کی توثیق ہے۔
جیکب کولہانک نے کہا کہ آج کثیرالفریقیت کے مستقبل پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور ان حالات میں رکن ممالک کی اس نظام سے غیرمتزلزل وابستگی امید افزا اور متاثر کن ہے۔دنیا بھر کے ممالک نے اس اعلامیے کے ذریعے دنیا کو بہتر بنانے کی خاطر پائیدار ترقی کے اہداف کی تکمیل کے لیے ہنگامی بنیاد پر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں، زمین، خوشحالی، امن اور شراکت کے لیے اس تصور کو عملی جامہ پہنانے کی سمت میں فوری اقدامات کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے رکن ممالک نے کہا ہے کہ پائیدار ترقی کے میں رکن ممالک اقوام متحدہ ہے اور کے عزم
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
ویب ڈیسک :آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات میں دو روز باقی رہ گئے ہیں، جس کے باعث سیاسی سرگرمیاں اور انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف آج میرپور کے قائداعظم سٹیڈیم میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے، جلسے میں میاں نواز شریف کے ہمراہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی دیگر مرکزی و مقامی قیادت بھی شریک ہوگی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
قائداعظم سٹیڈیم میں جلسے کے لیے تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، جہاں سٹیج کی تیاری سمیت دیگر انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، مسلم لیگ (ن) کے انتخابی جلسے میں کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے، جبکہ جلسے کے لیے مختلف علاقوں سے قافلوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
واضح رہے کہ آزادکشمیر ڈویژن میں عام انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے، جس کے پیش نظر مختلف سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم تیز کیے ہوئے ہیں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ