ہم ایران کیساتھ جامع معاہدہ چاہتے ہیں، فرانس
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
اپنے ایک انٹرویو میں ژان نوئل بارو کا کہنا تھا کہ ہم نے 10 سال قبل ایران کے ساتھ ایک جوہری معاہدہ کیا تھا جس سے ایران کی ایٹمی صلاحیت میں نمایاں کمی ممکن ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ فرانس کے وزیر خارجہ "ژان نوئل بارو" نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ یورپ، ایران کے ساتھ ایک جامع معاہدے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار امریکی نیوز نیٹ ورک CBS کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم واضح کر چکے ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔گزشتہ کچھ مہینوں میں ہم امریکی اور ایرانی حکام سے قریبی رابطے میں رہے تا کہ انہیں اپنی توقعات سے آگاہ کر سکیں۔ ایرانی جوہری معاہدے میں اپنی سستی اور وعدہ خلافیوں کا ذکر کئے بغیر فرانسوی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے 10 سال قبل ایران کے ساتھ ایک جوہری معاہدہ کیا تھا جس سے ایران کی ایٹمی صلاحیت میں نمایاں کمی ممکن ہوئی۔ البتہ اب حالات بدل گئے ہیں۔
ژان نوئل بارو نے الزام لگایا کہ ایران نے اس وقت سے لے کر اب تک، معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم ایک زیادہ جامع معاہدے کے خواہاں ہیں جو ایران کے جوہری منصوبے، بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کی سرگرمیوں کا احاطہ کرے۔ انہوں نے ایران کے ساتھ ایک نئے، مضبوط، پائیدار اور قابل تصدیق معاہدے تک پہنچنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ ایران کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر واپس لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا اگر اگست کے آخر تک کوئی مضبوط معاہدہ نہ ہوا تو ہم ایران کے خلاف اسنیپ بیک کے آپشن کے لیے تیار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران کے ساتھ ایک انہوں نے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔
فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔
فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔
ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔
متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔
سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔
ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔
سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔
اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔
خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔
ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔
ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔
2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔
استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔
امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔