جب ایم کیو ایم والے صاحب سے بھائی بنیں گے تو کراچی کے حالات ٹھیک ہونگے، گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
مائی کراچی فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ کراچی کی معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، کراچی آج جس حالت میں ہے اس پر صرف ہی افسوس کیا جا سکتا ہے، کراچی پہلے کیا تھا اور اب کیا ہو گیا ہے، ووٹ کے وقت کراچی یاد آتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم والوں کو تقریبات میں صاحب کہا جاتا ہے، ایم کیو ایم والے جب صاحب سے بھائی بن جائیں گے تو کراچی کے حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ ایکسپو سینٹر میں مائی کراچی فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ سوچ رہا ہوں کہ ایم کیو ایم تبدیل کیسے ہوگئی، جب یہ دوبارہ بھائی بنیں گے تو سب کچھ بہتر ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ منتخب اراکین نے کراچی کے مسائل کو اسمبلیوں میں بھرپور طریقے سے اٹھایا، کے الیکٹرک کے لیے نیپرا کی 50 ارب روپے وصولی کا معاملہ وزیرِ اعظم کے سامنے اٹھائیں گے۔ گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ کراچی چیمبر کے مسائل ایم کیو ایم کے بھی ہیں، چیمبر ایم کیو ایم میں ضم ہو جائے، ہمارے سب کے مسائل اور فریاد ایک ہیں، دیگر ملکوں میں تاجروں اور صنعت کاروں کو 200 فیصد مراعات ملتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کا تاجر و صنعت کار بجلی، پانی، گیس اور امن و امان مانگ رہا ہے تو کیا غلط ہے؟ اگر تاجروں اور صنعت کاروں کو سہولت نہیں مل پا رہی تو آپ کو ایم کیو ایم کے اراکین کو مضبوط کرنا ہوگا۔ گورنر سندھ نے کہا کہ ہر شخص یہاں لفافہ مانگ رہا ہے، ایم کیو ایم نے وفاق سے اس سال 40 ارب روپے حاصل کر لیے ہیں، 20 ارب روپے موصول ہو چکے ہیں جو کراچی میں خرچ ہوں گے۔ گورنر کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ تاجر برادری صنعتی علاقوں تجارتی مراکز میں ترقیاتی کاموں کے لیے اراکین سے رابطہ کریں، فاروق ستار نے کے 2 پراجیکٹ کراچی کو دیا، اس منصوبے سے شہر کو 10 کروڑ گیلن پانی ملا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال نے کے تھری کے تحت 10 کروڑ گیلن پانی دیا، کے 4 سے 26 کروڑ گیلن پانی چاہیئے تو ایم کیو ایم کا میئر لانا ہوگا، کراچی کا مقدمہ لڑنے کی نہیں فیصلے کی ضرورت ہے، کراچی کا مقدمہ تو کئی سال سے لڑا جا رہا ہے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ تاجروں اور صنعت کاروں کو بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہیں، دو وفاقی وزارتیں اور قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ ایم کیو ایم کے پاس ہے، نوجوان مصنوعی ذہانت سیکھیں، مستقبل اسی سمت میں جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں، ان کا حوصلہ بڑھائیں اور کامیابی میں ساتھ دیں، ادارے کی تعلیمی، سماجی، ترقیاتی خدمات لائقِ تحسین ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نہ کسی سے کم ہیں نہ کم تر، وقتِ ضرورت قوم نے دشمن کو شکست دی۔ گورنر سندھ نے کہا کہ کے فور منصوبہ مکمل کرنے کے لیے اگلا میئر ایم کیو ایم کا لانا ہوگا، کراچی کا مقدمہ صرف ایم کیو ایم والے ہی لڑ سکتے ہیں، ایم کیو ایم میں وڈیرانہ اور جاگیردارانہ سوچ نہیں ہے۔ گورنر کامران ٹیسوری نے کہا کہ کراچی کی معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، کراچی آج جس حالت میں ہے اس پر صرف ہی افسوس کیا جا سکتا ہے، کراچی پہلے کیا تھا اور اب کیا ہو گیا ہے، ووٹ کے وقت کراچی یاد آتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گورنر سندھ نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ٹیسوری نے کہا ایم کیو ایم کہ کراچی کراچی کا کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ منگل کو گورنر آفس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں ڈی آئی خان کے دینار ہسپتال کے لیے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔(جاری ہے)
اس موقع پر گورنر نے کہا کہ جنوبی اضلاع کے کینسر کے مریضوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے، وفاق طبی آلات کی فراہمی میں تعاون کرے جس پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے دینار ہسپتال کے لیے ضروری مشینری اور طبی آلات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔
گورنر نے کہا کہ وفاق صحت کے شعبے میں خیبرپختونخوا کے پسماندہ اور متاثرہ علاقوں پر خصوصی توجہ دے، دینار ہسپتال میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی سے جنوبی اضلاع کے مریضوں کو ریلیف ملے گا۔ وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے ہرممکن تعاون کریں گے۔ ملاقات میں وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون مزید بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی بھی اس موقع پر موجود تھے۔