عمران خان کی کال کے باوجود اڈیالہ جیل کے باہر بڑا احتجاج نہ ہوسکا
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
راولپنڈی:
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی احتجاجی کال کے باوجود اڈیالہ جیل کے باہر بڑا مظاہرہ نہ ہوسکا، عمران خان اور بشریٰ بی بی سے فیملی کی ملاقات نہ ہوسکی، علیمہ خان، ڈاکٹر عظمٰی اور نورین نیازی چکری انٹرچینج سے آگے نہ آسکے صرف ایک سینیٹر، دو ایم این اے اڈیالہ جیل کے قریب پہنچے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف 5 اگست پر راولپنڈی میں کوئی بڑا شو نہ کرسکی، پارٹی رہنماؤں کی اڈیالہ جیل کے قریب مظاہرہ کرنے کی کال بے سود ثابت ہوئی، صرف سینیٹر ہمایوں مہمند، ایم این اے مولانا نسیم علی شاہ، ایم این اے ساجد خان مہمند اڈیالہ روڈ داہگل ناکے پر پہنچے جہاں پولیس نے آگے جانے سے روک دیا۔
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے چھ رہنماؤں میں صرف ترجمان بانی نیاز اللہ نیازی جیل گیٹ 5 تک پہنچے لیکن پولیس نے فوری آگے جانے کی ہدایت کی۔ بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں ملاقات کے لیے براستہ موٹروے چکری انٹرچینج پہنچیں جہاں راولپنڈی پولیس کی بھاری نفری نے ان کو اڈیالہ جیل کی جانب جانے سے روک دیا۔
دو وکیل شمسہ کیانی اور اویس یونس اڈیالہ روڈ گورکھ پور ناکے تک پہنچے تو پولیس نے آگے جانے سے روک دیا، جبکہ پارٹی سیکریٹری سلمان اکرم راجہ، لطیف کھوسہ اور محمود خان اچکزئی کو اڈیالہ روڈ کے قریب پرائیوٹ ہاؤسنگ سوسائٹی میں ناکے سے آگے نہیں آنے دیا گیا۔
پارٹی کی چند خواتین کارکن داہگل ناکےپر جمع ہوئیں اور نعرے بازی کی، پی ٹی آئی راولپنڈی اور اڈیالہ جیل کے قریب کوئی بڑا شو نہ کرسکی، مقامی قیادت اور کارکن گرفتاریوں کے ڈر سے غائب رہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان اڈیالہ جیل کے پی ٹی آئی کے قریب
پڑھیں:
ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)راولپنڈی میں مبینہ طور پر جعلی بین الاقوامی ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے صحت کی جعلی دستاویزات پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، اے بی این نیوز نے شہر میں کام کرنے والے مبینہ جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ نیٹ ورک پر افراد کو جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا شبہ ہے۔
رپورٹ نے سرکاری صحت کے ریکارڈ کے غلط استعمال اور صحت عامہ اور بین الاقوامی سفری تعمیل کے لیے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ الزامات کی تحقیقات کریں گے اور اگر دعوے درست ثابت ہوئے تو ملوث پائے جانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔