اسلام آباد میںبرساتی نالے بپھرنے سے پانی گھروں میں داخل، گاڑیاں بھی تیرنے لگیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
سیلابی پانی میں علاقہ مکینوں کا تمام سامان اور فرنیچر بہہ گیا، لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے
نیو چٹھہ بختاور،نیو مل شرقی ،بھارہ کہو، سواں ، پی ایچ اے فلیٹس، ڈیری فارمز بھی بری طرح متاثرہیں
اسلام آبادمیں بارش کے بعد برساتی نالے بپھرنے سے پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔اسلام آباد میں مارگلہ کے پہاڑوں پر گزشتہ رات کی بارش کے بعد برساتی نالے بپھر گئے جس کے باعث نیو چٹھہ بختاور اور نیو مل شرقی میں سیلابی ریلے کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔سیلابی پانی میں علاقہ مکینوں کا تمام سامان اور فرنیچر بہہ گیا، لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے جب کہ گاڑیاں بھی پانی میں پھنس گئیں۔اس کے علاوہ بھارہ کہو، سواں اور پی ایچ اے فلیٹس میں بھی سیلابی پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔دوسری جانب برساتی نالوں میں طغیانی کے باعث کری گاؤں پل کے حفاظتی بند متاثر ہوئے ہیں، برساتی نالے میں جانور اور گھریلو سامان بہہ گیا، دیہی علاقوں میں قائم ڈیری فارمز بھی بری طرح متاثر ہوئے، بارش سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارش متوقع ہے اور مون سون بارشوں کا چھٹا اسپیل 7 اگست تک جاری رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پانی گھروں میں داخل برساتی نالے
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔