ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 8 اگست تک ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں شدید مون سون بارشوں کے باعث سیلاب کے خطرے کا الرٹ جاری کردیا ہے۔
ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ، چناب اور راوی میں پانی کی آمد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جبکہ راوی اور چناب کے ندی نالوں میں درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ مرالہ کے مقام پر چناب میں کم درجے کے سیلاب کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
ادارے نے بتایا ہے کہ تربیلا، گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کی سطح فی الحال کم ہے، تاہم چشمہ اور تونسہ کے علاقوں میں بارشیں کم درجے کا سیلاب لا سکتی ہیں۔ دریائے جہلم (منگلا کے اوپر) اور اس کے معاون دریاؤں میں درمیانے درجے کے بہاؤ کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے نے سوات، پنجگوڑہ، کابل اور ملحقہ ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے نوشہرہ کے عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ اسی طرح گلگت بلتستان کے علاقوں ہنزہ، شگر اور گانچھے میں بھی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ موجود ہے۔
تربیلا ڈیم 94 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 61 فیصد تک بھر چکے ہیں، اور مزید پانی کی آمد جاری ہے۔ ندی نالوں کے قریب رہنے والے افراد کو رات کے وقت خاص طور پر ہوشیار رہنے اور محفوظ راستے اور مقامات کی شناخت رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عوام ایمرجنسی کٹس اور ضروری ادویات تیار رکھیں۔
شہری علاقوں، خاص طور پر شمال مشرقی اور وسطی پنجاب میں نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ شہریوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ نشیبی پلوں، کاز ویز اور پانی بھرے راستوں سے گریز کریں، کیونکہ صرف 6 انچ پانی بالغ انسان جبکہ 12 انچ پانی گاڑی کو بہا سکتا ہے۔
این ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سرکاری انتباہات، موبائل الرٹس اور وارننگ ایپ پر نظر رکھیں تاکہ کسی بھی ممکنہ آفت سے بچاؤ ممکن ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈی ایم اے ندی نالوں
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔