نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 8 اگست تک ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں شدید مون سون بارشوں کے باعث سیلاب کے خطرے کا الرٹ جاری کردیا ہے۔
ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ، چناب اور راوی میں پانی کی آمد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جبکہ راوی اور چناب کے ندی نالوں میں درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ مرالہ کے مقام پر چناب میں کم درجے کے سیلاب کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
ادارے نے بتایا ہے کہ تربیلا، گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کی سطح فی الحال کم ہے، تاہم چشمہ اور تونسہ کے علاقوں میں بارشیں کم درجے کا سیلاب لا سکتی ہیں۔ دریائے جہلم (منگلا کے اوپر) اور اس کے معاون دریاؤں میں درمیانے درجے کے بہاؤ کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے نے سوات، پنجگوڑہ، کابل اور ملحقہ ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے نوشہرہ کے عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ اسی طرح گلگت بلتستان کے علاقوں ہنزہ، شگر اور گانچھے میں بھی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ موجود ہے۔
تربیلا ڈیم 94 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 61 فیصد تک بھر چکے ہیں، اور مزید پانی کی آمد جاری ہے۔ ندی نالوں کے قریب رہنے والے افراد کو رات کے وقت خاص طور پر ہوشیار رہنے اور محفوظ راستے اور مقامات کی شناخت رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عوام ایمرجنسی کٹس اور ضروری ادویات تیار رکھیں۔
شہری علاقوں، خاص طور پر شمال مشرقی اور وسطی پنجاب میں نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ شہریوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ نشیبی پلوں، کاز ویز اور پانی بھرے راستوں سے گریز کریں، کیونکہ صرف 6 انچ پانی بالغ انسان جبکہ 12 انچ پانی گاڑی کو بہا سکتا ہے۔
این ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سرکاری انتباہات، موبائل الرٹس اور وارننگ ایپ پر نظر رکھیں تاکہ کسی بھی ممکنہ آفت سے بچاؤ ممکن ہو۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ڈی ایم اے ندی نالوں

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری  سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب