بھارت کے فاسٹ باؤلرز کی شاندار کارکردگی، آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں بڑی چھلانگ
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
بھارت کے تیز گیند باز محمد سراج اور پرسدھ کرشنا نے انگلینڈ کے خلاف دی اوول ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی دکھا کر آئی سی سی کی تازہ ترین ٹیسٹ رینکنگ میں کیریئر کی بہترین پوزیشن حاصل کرلی ہے۔
پانچویں اور فیصلہ کن ٹیسٹ میں پلیئر آف دی میچ کا اعزاز حاصل کرنے والے محمد سراج نے 674 ریٹنگ پوائنٹس حاصل کرتے ہوئے 12 درجے ترقی کے ساتھ 15ویں پوزیشن پر قبضہ جما لیا ہے۔ وہ اب عالمی سطح پر سرفہرست فاسٹ باؤلرز میں شمار ہونے لگے ہیں۔
دوسری جانب پرسدھ کرشنا نے بھی 8 وکٹیں حاصل کرکے 25 درجے ترقی کے بعد 59ویں پوزیشن حاصل کی ہے، جو ان کے کیریئر کی بہترین رینکنگ ہے۔ دونوں کھلاڑیوں نے انگلینڈ کے خلاف بھارت کی 6 رنز سے تاریخی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔
مزید پڑھیں:انگلینڈ بھارت ٹیسٹ سیریز میں ٹوٹے اور بنے نئے ریکارڈز
انگلینڈ کے نوجوان فاسٹ باؤلر گس ایٹکنسن نے بھی دی اوول ٹیسٹ میں 8 وکٹیں حاصل کرکے پہلی بار ٹاپ 10 باؤلرز میں جگہ بنالی ہے۔ ان کے ساتھی جوش ٹنگ نے بھی زبردست کارکردگی دکھاتے ہوئے 14 درجے ترقی کے ساتھ 46ویں پوزیشن حاصل کی۔
بھارتی اوپنر یشسوی جیسوال نے اوول ٹیسٹ میں شاندار سینچری کی بدولت بیٹرز کی عالمی درجہ بندی میں 3 درجے ترقی کرتے ہوئے 5ویں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ ان کے ریٹنگ پوائنٹس 792 ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب انگلینڈ کے جو روٹ اور ہیری بروک بدستور بالترتیب پہلی اور دوسری پوزیشن پر براجمان ہیں۔
زمبابوے کے خلاف سیریز میں نیوزی لینڈ کے آل راؤنڈر میٹ ہنری نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 3 درجے ترقی کے ساتھ چوتھی پوزیشن حاصل کی ہے۔ ان کے ریٹنگ پوائنٹس 817 ہو گئے ہیں، جو ان کے کیریئر کی بہترین پوزیشن ہے۔ بیٹرز میں ڈیرل مچل نے بھی 4 درجے بہتری کے ساتھ ٹاپ 10 میں جگہ بنا لی ہے۔
مزید پڑھیں:کرکٹ کے یادگار ڈرامائی لمحات، بھارت نے انگلینڈ کو صرف 6 رنز سے ہرا کر ٹیسٹ سیریز برابر کر دی
ٹی20 رینکنگ میں بھی اکھاڑ پچھاڑٹی20 انٹرنیشنل کی تازہ درجہ بندی میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ آسٹریلیا کے جارح مزاج بیٹر ٹِم ڈیوڈ نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دھواں دار سینچری کی بدولت دو درجے ترقی پا کر 16ویں پوزیشن حاصل کی۔
پاکستان کے اوپنر صائم ایوب نے فلوریڈا میں شاندار کارکردگی کے بعد 25 درجے چھلانگ لگا کر 37ویں پوزیشن حاصل کرلی ہے۔ ویسٹ انڈیز کے تجربہ کار آل راؤنڈر جیسن ہولڈر نے 23 درجے ترقی کے بعد 32ویں پوزیشن پر پہنچ کر کیشو مہاراج کے ساتھ برابری کرلی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی سی سی بھارت پرسدھ کرشنا ٹیسٹ رینکنگ فاسٹ باؤلرز گس ایٹکنسن محمد سراج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت ٹیسٹ رینکنگ فاسٹ باؤلرز گس ایٹکنسن شاندار کارکردگی پوزیشن حاصل کی درجے ترقی کے انگلینڈ کے ٹیسٹ میں کے ساتھ کے خلاف نے بھی
پڑھیں:
بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ
بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔
بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔
نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔
بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔
حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔
ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔
تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔
کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔
2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان
دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز