اسلام آباد:

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے الیکٹریکل وہیکل پالیسی کی منظوری دے دی اور پوزیشن ہولڈر طلبہ کو مفت ای بائیکس دینے کے ساتھ ساتھ ای بائیکس اور رکشوں پر سبسڈی کے لیے فنڈز اور ترسیلات زر اسکیم کے واجبات کی ادائیگی کے لیے 30 ارب روپے ضمنی گرانٹ کی منظوری دے دی گئی۔

وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جہاں اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ امتحانات میں ٹاپ پوزیشن ہولڈرز طلبہ کو مفت ای بائیکس فراہم کی جائیں گی، ای بائیکس اور رکشوں پر سبسڈی کے لیے9 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دی گئی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق 26-2025 میں ایک لاکھ 16 ہزار ای بائیکس دی جائیں گی، اسی عرصے کے دوران 3 ہزار 170 ای رکشوں پر سبسڈی فراہم ہوگی، پہلے مرحلے میں 40 ہزار بائیکس اور ایک ہزار رکشے جلد فراہم کیے جائیں گے۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ ترسیلات زر اسکیم کے واجبات کی ادائیگی کے لیے 30 ارب روپے کی ضمنی گرانٹ منظور کر لی گئی ہے۔

اجلاس کے شرکا کو بریفنگ دی گئی کہ ترسیلات زر اسکیم کے واجبات 58.

26 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں جبکہ گرانٹ پر عمل درآمد کے لیے وزارت خزانہ کو اسٹیٹ بینک سے مل کر کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسکیم کا مالی تجزیہ اور رپورٹ 15 ستمبر تک ای سی سی کو پیش کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق اجلاس میں قائداعظم یونیورسٹی کے لیے دو ارب روپے کی بیل آؤٹ گرانٹ کی منظوری دی گئی ہے جبکہ یونیورسٹی کو مالی خود کفالت کا منصوبہ جلد پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں اسے مالی استحکام حاصل ہو۔

Tagsپاکستان

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان رکشوں پر سبسڈی کی منظوری ارب روپے کے لیے گئی ہے

پڑھیں:

مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری

فوٹو: فائل

کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔  

اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔ 

 اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

 اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ 

صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ