حکومت سندھ اور ٹرانسپورٹرز میں مذاکرات کامیاب ہوگئے جس کے بعد ٹرانسپورٹرز نے احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا جب کہ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ٹرانسپورٹرز سے ملاقات کی، حادثے اور پرتشدد واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔

کمشنر ہاؤس کراچی میں ٹرانسپورٹرز کے وفد نے حاجی یوسف اور جام عالم کی قیادت میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے ملاقات کی، ملاقات میں کمشنر کراچی سید حسن نقوی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو اور دیگر بھی موجود تھے۔

شرجیل انعام میمن نے حادثے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہارکیا اور شرجیل انعام میمن نے  واقعے کے بعد ہونے والے پرتشدد واقعات کی شدید مذمت کی۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت ان کے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی، انسانی جان کا ضیاع ناقابلِ تلافی ہے اور یہ ہمارے لیے انتہائی افسوسناک ہے،  تشدد اور توڑ پھوڑ مسائل کا حل نہیں، ہم تمام فریقین کے ساتھ مل کر ٹرانسپورٹ سیکٹر کے مسائل حل کریں گے۔

سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گے کہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں، جنہوں نے قانون ہاتھ میں لیا اور فسادات کو ہوا دی ان پر انسداد دہشتگردی کے تحت مقدمات درج ہونگے، ڈمپر مالکان ڈمپرز میں کیمرا، ٹریکر کے ساتھ انشورنس اور ڈرائیورز کا لائسنس یقینی بنائیں گے، ٹرانسپورٹرز کے نقصان کے تعین کے لئے کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں۔

حکومت سندھ اور ٹرانسپورٹرز میں مذاکرات کامیاب، ٹرانسپورٹرز کا احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی ٹرانسپورٹرز سے ملاقات، حادثے اور پرتشدد واقعات پر تشویش کا اظہار

کمشنر ہاؤس کراچی میں ٹرانسپورٹرز کے وفد نے حاجی یوسف اور جام عالم کی قیادت میں سینئر وزیر شرجیل… pic.

twitter.com/adlut3NtUS

— Sindh Information Department (@sindhinfodepart) August 10, 2025

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شرجیل انعام میمن نے سینئر وزیر شرجیل

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ