اسلام آباد مری روڈ پر قائم مسجد و مدرسہ نئی جگہ پر منتقل، بغیر نوٹس عمارت گرانے کی خبریں خلاف حقائق
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور سی ڈی اے حکام نے 9 اور 10 اگست کی رات مری روڈ پر واقع سبز پٹی (گرین بیلٹ) میں قائم مسجدِ مدنی اور اس سے منسلک مدرسہ کو مسمار کیا۔ تاہم یہ اقدام وزارتِ داخلہ کے پہلے سے کیے گئے فیصلے اور مکمل مشاورت کے تحت عمل میں آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنوری 2025 میں وزارتِ داخلہ میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ مسجد اور مدرسہ کو موجودہ مقام سے ہٹا کر مارگلہ ٹاؤن میں منتقل کیا جائے۔
اس ہدایت پر سی ڈی اے نے مارگلہ ٹاؤن میں نئی مسجد و مدرسہ تعمیر کیا، جس میں ہال اور وضوخانہ سمیت دیگر سہولیات شامل ہیں۔ اس منصوبے کی لاگت قریباً 3 کروڑ 70 لاکھ روپے رہی اور اس میں مسجد انتظامیہ کو مکمل اعتماد میں لیا گیا۔ تعمیر مکمل ہونے کے بعد مسجدِ مدنی کے عملے اور طلبا کو وہاں منتقل کیا گیا اور اس کے بعد پرانی مسجد کی مسماری کی گئی۔
وزیرِ مملکت داخلہ طلال چودری نے واضح کیا ہے کہ مدرسہ انتظامیہ کی رضامندی سے مدرسے کو نئے، جدید اور معیاری سہولیات سے مزین مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ مدارس و مساجد کے حوالے سے بے بنیاد افواہیں نہ پھیلائیں۔
انہوں نے کہاکہ گرین بیلٹ یا غیر مجاز مقامات پر قائم مساجد و مدارس کی منتقلی فقط علما اور انتظامیہ کی مشاورت سے کی جائے گی اور امن و امان خراب کرنے کی کسی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل جون 2025 میں وزارتِ داخلہ کے اجلاس میں گرین بیلٹ پر قائم تمام تجاوزات کے خاتمے کے لیے ہدایات دی گئی تھیں اور اس عمل میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں غیر قانونی مساجد و مدارس کو متبادل جگہیں فراہم کرکے جدید عمارات تعمیر کی جارہی ہیں تاکہ تعلیمی اور عبادتی سرگرمیاں بہتر انداز میں جاری رہ سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسلام اباد گرین بیلٹ مری روڈ مسجد انتظامیہ مسجد و مدرسہ منتقلی وزارت داخلہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد گرین بیلٹ مری روڈ مسجد انتظامیہ مسجد و مدرسہ منتقلی وزارت داخلہ وی نیوز گرین بیلٹ اور اس
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔