مری روڈ پر واقع مدرسہ انتظامیہ کی مکمل مشاورت اور رضامندی سے منتقل کیا گیا ہے،وزیرمملکت طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
مری روڈ پر واقع مدرسہ انتظامیہ کی مکمل مشاورت اور رضامندی سے منتقل کیا گیا ہے،وزیرمملکت طلال چوہدری WhatsAppFacebookTwitter 0 10 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ مری روڈ پر واقع مدرسہ کو مدرسہ انتظامیہ کی مکمل مشاورت اور رضامندی سے منتقل کیا گیا ہے، نئے مقام پر 4 کروڑ روپے کی لاگت سے جدید طرز کا مدرسہ تعمیر کیا گیا ہے،جہاں تقریبا 200 طلبہ کے لیے رہائش، کھانے پینے اور دینی تعلیم کی بہترین سہولیات موجود ہیں۔
اتوار کو وزارت داخلہ سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ گرین بیلٹ یا غیر مجاز جگہوں پر موجود مدارس یا مساجد کو منتقل کرنے کاعمل علما کرام اور انتظامیہ کی مشاورت سے ہی کیا جائے گا۔انہوں نے مدارس و مساجد کے بارے میں بے بنیاد افواہیں پھیلانے سے گریز کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد ائیرپورٹ 8دن بند رہنے کی خبریں درست نہیں، ترجمان ائیرپورٹ اتھارٹی کی تردید اسلام آباد ائیرپورٹ 8دن بند رہنے کی خبریں درست نہیں، ترجمان ائیرپورٹ اتھارٹی کی تردید نیب نے 6ماہ کے دوران 547ارب 31کروڑ روپے ریکور کر لیے زیارت میں نامعلوم افراد نے اسسٹنٹ کمشنر کو بیٹے سمیت اغوا کرلیا خیبر پختونخوا حکومت کا محکمہ بلدیات کے تمام مالی امور ڈیجیٹل نظام پر لانے کا فیصلہ پی ٹی آئی پنجاب میڈیا سیل کے سربراہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا کاروباری افراد ہوشیار، ایف بی آر نے تاجروں کیلئے سخت قوانین تیار کر لیےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: انتظامیہ کی کیا گیا ہے
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔