خیبر پختونخوا حکومت کا محکمہ بلدیات کے تمام مالی امور ڈیجیٹل نظام پر لانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
خیبر پختونخوا حکومت کا محکمہ بلدیات کے تمام مالی امور ڈیجیٹل نظام پر لانے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 10 August, 2025 سب نیوز
پشاور (سب نیوز)خیبر پختونخوا حکومت نے محکمہ بلدیات کے تمام مالی امور ڈیجیٹل نظام پر لانے کا فیصلہ کرلیا ہے جبکہ تمام ٹی ایم اوز کو عملدرآمد کے لئے احکامات جاری کردئے گئے ہیں۔
لوکل کونسل بورڈ کی جانب سے میئر پشاور سمیت تمام بلدیاتی اداروں کو جاری مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے میٹرو پولیٹن تحصیل اور ٹی ایم ایز میں ای چالان اور کیش لیس نظام کے تحت وصولی کی جائے۔فیصلے کے تحت تمام مالی لین دین اب صرف ای چالان پلیٹ فارم کے ذریعے ہی ہوں گے۔اسی طرح بلدیاتی اداروں کی مختلف نوعیت کی فیس ، مارکیٹ کرایوں ، جرمانوں و دیگر محصولات کی نقد وصولی بند کر دی جائیگی۔ٹی ایم ایز کو ای چالان اور کیش لیس سسٹم سے متعلق آگاہی مہم شروع کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی ٹی آئی پنجاب میڈیا سیل کے سربراہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا پی ٹی آئی پنجاب میڈیا سیل کے سربراہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا کاروباری افراد ہوشیار، ایف بی آر نے تاجروں کیلئے سخت قوانین تیار کر لیے بلوچستان اسمبلی میں موبائل انٹرنیٹ بندش کیخلاف تحریک التوا جمع پی ٹی آئی قیادت ملک کے خلاف ہر سازش میں پیش پیش ہے، رانا تنویر حسین کراچی، ڈمپر نے بہن بھائی کو کچل دیا، والد زخمی، مشتعل شہریوں نے 7 ڈمپر جلا دیئے ریلوے ٹریک پر دھماکا، جعفر ایکسپریس کی 5بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، 4مسافر زخمیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: تمام مالی
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔