بلوچستان اسمبلی میں موبائل انٹرنیٹ بندش کے خلاف تحریک التوا جمع
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے صوبے میں موبائل انٹرنیٹ بندش کے خلاف تحریک التوا جمع کرا دی۔تحریک کے متن کے مطابق 6 اگست کو حکومت نے بلوچستان میں موبائل انٹرنیٹ 4 جی اور 5 جی سروس بند کر کے 31 اگست تک معطل کرنے کے احکامات جاری کئے، جس سے صوبے میں لوگوں کی زندگی مفلوج ہوگئی ہے اور تمام کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو چکی ہیں۔تمام یونیورسٹیوں، کالجز اور انگلش میڈیم سکولوں میں تعلیمی سلسلہ رک گیا ہے، آن لائن کلاسز لینے والے طلبا وطالبات کی پڑھائی اور آن لائن کاروبار متاثر ہوا ہے، یہاں تک کہ لاء اینڈ آرڈر قائم کرنے والے ادارے بھی مفلوج ہوگئے ہیں اور ٹریفک پولیس بھی چالان نہیں کر پا رہی۔رحمت صالح بلوچ نے انٹرنیٹ بندش کو بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام میں بے چینی اور کرب کی کیفیت ہے اس لئے اسمبلی کی کارروائی روک کر اس اہم مسئلے پر بحث کی جائے اور فوری طور پر انٹرنیٹ سروس بحال کر کے عوام کو مشکلات سے نجات دلائی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔