بنوں کی قدیم چلغوزہ منڈی جہاں سے یہ سوغات دنیا بھر میں برآمد کی جاتی ہے
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں قائم چلغوزے کی آزاد منڈی 1962 سے فعال ہے، جسے ایشیا کی سب سے بڑی چلغوزہ منڈی کہا جاتا ہے۔ یہاں شمالی وزیرستان، خصوصاً شوال وادی سے لایا جانے والا چلغوزہ خریدا اور بیچا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: چلغوزہ کی قیمت گزشتہ برس کی نسبت کم کیوں؟
چلغوزہ دنیا کے مہنگے ترین خشک میوہ جات میں شمار ہوتا ہے اور اپنی لذت، افادیت اور منفرد ذائقے کی بدولت خاص اہمیت رکھتا ہے
چلغوزہ کا سیزن ہر سال اکتوبر سے دسمبر تک جاری رہتا ہے۔ اس دوران شوال کے پہاڑی جنگلات سے چلغوزہ توڑا جاتا ہے، جسے پہلے شوال کے مقامی مراکز میں جمع کیا جاتا ہے، بعد ازاں یہ آزاد منڈی میں پہنچتا ہے، جہاں بولی کے ذریعے اس کی قیمت طے کی جاتی ہے۔
خریداری کے بعد مال مقامی گوداموں میں محفوظ کیا جاتا ہے، جہاں سے پراسیسنگ کے لیے اسے لاہور اور دیگر شہروں کو بھیج دیا جاتا ہے۔ لاہور میں موجود فیکٹریوں
مزید پڑھیں: دیامر کے چلغوزے بہت زیادہ مہنگے کیوں ہوتے ہیں؟
میں چلغوزے کی صفائی، چھلائی اور پیکنگ کی جاتی ہے، جس کے بعد یہ پاکستان سمیت چین، افغانستان، دبئی اور دیگر ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے۔
چلغوزے کے اس کاروبار سے زیادہ تر شمالی اور جنوبی وزیرستان کے لو گ براہِ راست وابستہ ہیں۔ 2004 سے قبل بنوں ملک کی سب سے بڑی چلغوزہ منڈی تھی، مگر سیکیورٹی حالات کے باعث مقامی پراسیسنگ انڈسٹری ختم ہو گئی۔ وانا میں قائم واحد چلغوزہ پلانٹ بھی بند کر دیا گیا، جس سے مقامی معیشت کو نقصان پہنچا
تاجران کا کہنا ہے کہ حکومت صوبے میں چلغوزے کی پیداوار بڑھانے پر توجہ دے تو خیبر پختونخوا کی معیشت مضبوط ہو سکتی ہے اور قبائلی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنوں چلغوزہ شمالی اور جنوبی وزیرستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چلغوزہ شمالی اور جنوبی وزیرستان جاتا ہے
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔