کراچی؛ سینیئر وکیل کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم کا سہولت کار گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
کراچی:
ساؤتھ انویسٹی گیشن پولیس نے سینیئر وکیل کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم کے سہولت کار کو گرفتار کرکے گاڑی برآمد کرلی۔
تفصیلات کے مطابق ڈیفنس فیز 6 سینیئر وکیل خواجہ شمس السلام قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ساؤتھ انویسٹی گیشن پولیس کی جانب سے خیبر پختونخوا میں اہم کارروائی کی گئی اور اس دوران سینیئر وکیل خواجہ شمس السلام کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم عمران آفریدی کے سہولت کار ملزم حسن کو گرفتار کرکے اسکے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والی کار بھی برآمد کر لی گئی ہے۔
ساؤتھ پولیس کی جانب سے سہولت کار ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا کہ گرفتار ملزم واردات کے بعد عمران آفریدی کو گاڑی میں لے کر فرار ہوا تھا، گرفتار ملزم حسن مرکزی ملزم عمران آفریدی کو خیبرپختونخوا لے کر فرار ہوا تھا۔
گرفتار ملزم کو جلد کراچی منتقل کرکے تفتیش کی جائے گی اور سینیئر وکیل کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم کی گرفتاری کی کوشش جاری ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم سینیئر وکیل سہولت کار
پڑھیں:
بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتالیں غیر قانونی قرار؛ وفاقی آئینی عدالت کا حکم
وفاقی آئینی عدالت نے بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی جانب سے دی جانے والی ہڑتالوں کی کالز کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی ہڑتالیں شہریوں کے انصاف تک رسائی کے آئینی حق کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ جسٹس عامر فاروق کی جانب سے تحریر کردہ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی نظام کو مفلوج کرنے والی ہڑتالیں نہ صرف سائلین کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ پہلے سے دباؤ کا شکار عدالتی ڈھانچے پر مزید بوجھ ڈالتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جب وکلا تنظیمیں ہڑتال کی کال دیتی ہیں تو وکلا کو عدالتوں میں پیش ہونے سے روکا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مقدمات کی سماعت بغیر پیش رفت کے ملتوی ہو جاتی ہے اور سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عدالت کے مطابق پاکستان کا قانونی نظام پہلے ہی مقدمات کے انبار اور طویل التوا کا شکار ہے، جس کے باعث شہریوں کو فیصلوں کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ چاہے وکلا کی ہڑتال کا مقصد کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، اس سے انصاف تک رسائی میں رکاوٹ پیدا کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اور یہ آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
فیصلے میں ایک وکیل کے لائسنس سے متعلق کیس کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا بار کونسل نے وکیل کے قتل کے مقدمے میں نامزد ایس ایچ او کی قانونی نمائندگی کرنے پر وکیل کو پریکٹس سے روکا تھا، جس کے نتیجے میں اس کا لائسنس معطل کر دیا گیا۔ متاثرہ وکیل نے اس فیصلے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، جہاں عدالت نے وکیل کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے لائسنس بحال کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور کی سونیا سے عائشہ بننے والی خاتون کیس کا فیصلہ، وفاقی آئینی عدالت نے والدین کی حوالگی کی درخواست خارج کردی
وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ وکیل کی قانونی نمائندگی کے حق کو محدود کرنا آئینی اصولوں کے منافی ہے، اور عدلیہ کے ذریعے دی جانے والی یہ بحالی قانون کی بالادستی اور انصاف تک رسائی کے بنیادی حق کو تقویت دیتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں