رانا سکندر حیات کی زیر صدارت نواز شریف سنٹر آف ایکسیلنس میں سوئمنگ کلاسز کے آغاز کے حوالے سے جائزہ اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 اگست2025ء) وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی زیر صدارت نواز شریف سنٹر آف ایکسیلنس میں سوئمنگ کلاسز کے آغاز کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں بچوں کیلئے پہلے سٹیٹ آف دی آرٹ ٹمپریچر کنٹرول سوئمنگ پول کے افتتاح کی تیاریوں اور رجسٹریشن کے امور کا جائزہ لیا گیا۔ترجمان محکمہ تعلیم کیمطابق وزیر تعلیم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ نواز شریف سنٹر آف ایکسیلنس میں 5 سے 12 سال تک بچوں کیلئے سوئمنگ کلاسز کا آغاز 20 اگست سے ہوگا جبکہ سوئمنگ کلاسز میں اب تک 300 سے زائد بچے رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔
اس موقع پر وزیر تعلیم نے سوئمنگ سیشنز کے حوالے سے تمام حفاظتی امور یقینی بنانے اور سوئمنگ کوچ اور لائف گارڈز کے تمام وقت موقع پر موجود رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو سوئمنگ کے دوران کسی صورت اکیلا نہ چھوڑا جائے اور حفاظتی امور میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔(جاری ہے)
رانا سکندر حیات نے کہا کہ یہ بچوں کیلئے پہلا سٹیٹ آف دی آرٹ ٹمپریچر کنٹرول سوئمنگ پول ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف سنٹر آف ایکسیلنس مڈل کلاس طبقے کیلئے ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن کا بہترین ادارہ بن رہا ہے۔ اس کو جدید سہولیات سے آراستہ کرتے ہوئے ارلی ائیر کے مہنگے اداروں کے مقابلے میں عام آدمی کی پہنچ میں لا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سوئمنگ کلاسز
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟