مشکل گھڑی میں ترکیہ کی مدد کیلئے تیار‘ وزیراعظم : زلزلے پر افسوس
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+خبر نگار خصوصی ) وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ میں آنے والے زلزلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مشکل گھڑی میں مدد کی پیش کش کی ہے۔ پریس ونگ پی ایم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ترکیہ میں زلزلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک صوبے بالکسر میں زلزلے پر دل رنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تمام تر دعائیں اور ہمدردیاں متاثرین کے ساتھ ہیں اور ہم اپنے ترک بہن بھائیوں کی اس سانحے میں حفاظت اور جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں اپنے بھائی ترک صدر رجب طیب اردگان سے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اس قدرتی سانحے پر افسوس و ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ پاکستان ترکیہ کی اس مشکل گھڑی میں ہر قسم کی مدد کے لیے تیار ہے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہنر مند نوجوان معاشی سرگرمیوں میں اپنی ذہانت اور توانائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ترقی کے ثمرات عوام الناس تک پہنچانے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ نوجوان نسل کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے مکمل آگاہی کی فراہمی وفاقی حکومت کی ترجیح ہے تاکہ نوجوان نسل عالمی سطح پر دوسرے ممالک کے نوجوانوں کے ہم پلہ ہو سکیں۔ نوجوانوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا قومی مصنوعی ذہانت پالیسی 2025 بلاشبہ نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں بروئے کار لانے میں مدد دے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پر افسوس زلزلے پر نے کہا
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘