27ویں کے بعد 28ویں آئینی ترمیم بھی تیار، تعلیم اور بلدیاتی نظام سے متعلق ہوگی: رانا ثناء اللّٰہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے انکشاف کیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اب 28ویں ترمیم بھی لائی جارہی ہے، جو تعلیم، آبادی، نصاب اور لوکل باڈیز کے امور سے متعلق ہوگی۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کے دوران رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ 27ویں ترمیم کی سینیٹ سے منظوری کے وقت حکومت کے پاس 67 سے 68 ووٹوں کی حمایت موجود تھی، جبکہ تین سینیٹرز کو ریزرو میں رکھا گیا تھا تاکہ دو تہائی اکثریت کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی علالت کے باعث ووٹ کاسٹ نہ کرسکے، تاہم جو تین سینیٹرز اجلاس میں شریک نہیں ہوئے ان کی عدم حاضری کے بارے میں کسی کو اطلاع نہیں تھی۔
رانا ثناء اللّٰہ نے مزید کہا کہ اپوزیشن جماعتیں 27ویں آئینی ترمیم کے کسی حصے یا شق پر کوئی اعتراض نہیں کر سکیں، کیونکہ یہ ترمیم آئین کی موجودہ روح کے مطابق اور قومی مفاد میں کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین میں پہلے ہی صدرِ مملکت کو استثنیٰ حاصل ہے، تاہم اگر صدر کسی پبلک آفس کا عہدہ سنبھالتے ہیں تو یہ استثنیٰ خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آنے والی 28ویں آئینی ترمیم ملک میں تعلیمی معیار، آبادی کے انتظام اور بلدیاتی نظام کی بہتری کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رانا ثناء الل
پڑھیں:
لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
فائل فوٹوڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نےلاہور میں بلدیاتی الیکشن کی نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی ہے، جن میں 159 یونین کونسلز کا اضافہ کیا گیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں، 2015 کے بلدیاتی الیکشن میں لاہور میں 274 یونین کونسلز تھیں۔
ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن لاہور کی ابتدائی فہرست کے مطابق راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسل قائم کی گئی ہیں۔
ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40 اور صدر کینٹ میں 29، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونین کونسل بنائی گئی ہیں۔
لاہور کے شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائر کرسکتے ہیں، حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10 اگست کو جاری ہوگی۔