پاکستان کا تعلیمی نظام، خواہ عصری ہو یا دینی، دونوں ہی مشکلات کا شکار ہیں، علامہ جواد نقوی
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
مجمع المدارس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ دینی نظامِ تعلیم میں علم و فکر کم اور مسلکی و فرقہ وارانہ جھکاؤ زیادہ ہو گیا ہے۔ نظامِ تعلیم کی اصل اصلاح معلم کی اصلاح سے جڑی ہے۔ ایک تربیت یافتہ اور باشعور معلم پوری قوم کو شعور اور تربیت دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے بارے میں عالمی سطح پر دہشتگردی کا تاثر سب سے بڑا المیہ ہے، جسے مدارس اپنی مثبت کارکردگی، امن و محبت کے پیغام اور عملی نتائج سے ختم کر سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ریلیجیس ایجوکیشن کے باہمی تعاون سے مجمع المدارس کے ملحقہ مدارس و مراکز کے مدیران اور معلمین کیلئے سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025 یکم اگست سے 13 اگست تک جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں منعقد ہوئی۔ اس کے اختتامی اجلاس کی صدارت صدرِ مجمع المدارس علامہ سید جواد نقوی نے کی، جبکہ مہمانانِ خصوصی میں ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم کے سربراہ میجر جنرل (ر) ڈاکٹر غلام قمر، کنزہ قمر، مفتی زبیر فہیم، ڈاکٹر میر محمد میر آصف اور دیگر معزز شخصیات شامل تھیں۔ اس موقع پر شریک اساتذہ کو اسنادِ شرکت سے نوازا گیا۔
علامہ سید جواد نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ہمارے لیے اعزاز ہے کہ معلمین کیلئے ایسی تربیتی کاوش ہمارے ملک میں جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تعلیمی نظام، خواہ عصری ہو یا دینی، دونوں ہی مشکلات کا شکار ہیں، عصری تعلیم تجارت کی نذر ہو چکی ہے، جبکہ دینی نظامِ تعلیم میں علم و فکر کم اور مسلکی و فرقہ وارانہ جھکاؤ زیادہ ہو گیا ہے۔ نظامِ تعلیم کی اصل اصلاح معلم کی اصلاح سے جڑی ہے۔ ایک تربیت یافتہ اور باشعور معلم پوری قوم کو شعور اور تربیت دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے بارے میں عالمی سطح پر دہشتگردی کا تاثر سب سے بڑا المیہ ہے، جسے مدارس اپنی مثبت کارکردگی، امن و محبت کے پیغام اور عملی نتائج سے ختم کر سکتے ہیں۔
اختتامی اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر غلام قمر نے کہا کہ علامہ سید جواد نقوی ملک میں محبت، امن، تعلیم و تربیت اور وحدتِ امت کے فروغ کیلئے نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں، جو کہ قابل تحسین ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قیام کے وقت ہمارا نعرہ مسلک نہیں بلکہ ‘پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ’ تھا۔ آج بھی ہمیں اسی پر یکجا ہونے اور تفرقہ ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ دشمن کو جواب دینے کا واحد راستہ اتحاد اور بین المسالک ہم آہنگی ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ جن تعلیمی و تربیتی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ریاست کا فرض تھا، آج وہ مدارس ادا کر رہے ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف دینی تعلیم دے رہے ہیں بلکہ عصری علوم اور مہارتوں سے بھی طلبہ کو آراستہ کر رہے ہیں اور قومی تعلیمی بورڈز میں نمایاں پوزیشنز حاصل کر رہے ہیں۔ مفتی زبیر فہیم نے کہا کہ معلم ایک عظیم منصب کا حامل ہے، جو سماج کا معمار ہے۔ اس میں تکبر کی گنجائش نہیں، بلکہ عاجزی، اخلاص اور تربیتی شعور اس کی پہچان ہونی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مجمع المدارس جواد نقوی نے کہا کہ مدارس کے انہوں نے رہے ہیں
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔