مجمع المدارس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ دینی نظامِ تعلیم میں علم و فکر کم اور مسلکی و فرقہ وارانہ جھکاؤ زیادہ ہو گیا ہے۔ نظامِ تعلیم کی اصل اصلاح معلم کی اصلاح سے جڑی ہے۔ ایک تربیت یافتہ اور باشعور معلم پوری قوم کو شعور اور تربیت دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے بارے میں عالمی سطح پر دہشتگردی کا تاثر سب سے بڑا المیہ ہے، جسے مدارس اپنی مثبت کارکردگی، امن و محبت کے پیغام اور عملی نتائج سے ختم کر سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ریلیجیس ایجوکیشن کے باہمی تعاون سے مجمع المدارس کے ملحقہ مدارس و مراکز کے مدیران اور معلمین کیلئے سالانہ تربیتِ معلم کارگاہ بعنوان کارگاہ معلمین شہیدغزہ2025 یکم اگست سے 13 اگست تک جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں منعقد ہوئی۔ اس کے اختتامی اجلاس کی صدارت صدرِ مجمع المدارس علامہ سید جواد نقوی نے کی، جبکہ مہمانانِ خصوصی میں ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم کے سربراہ میجر جنرل (ر) ڈاکٹر غلام قمر، کنزہ قمر، مفتی زبیر فہیم، ڈاکٹر میر محمد میر آصف اور دیگر معزز شخصیات شامل تھیں۔ اس موقع پر شریک اساتذہ کو اسنادِ شرکت سے نوازا گیا۔

علامہ سید جواد نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ہمارے لیے اعزاز ہے کہ معلمین کیلئے ایسی تربیتی کاوش ہمارے ملک میں جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تعلیمی نظام، خواہ عصری ہو یا دینی، دونوں ہی مشکلات کا شکار ہیں، عصری تعلیم تجارت کی نذر ہو چکی ہے، جبکہ دینی نظامِ تعلیم میں علم و فکر کم اور مسلکی و فرقہ وارانہ جھکاؤ زیادہ ہو گیا ہے۔ نظامِ تعلیم کی اصل اصلاح معلم کی اصلاح سے جڑی ہے۔ ایک تربیت یافتہ اور باشعور معلم پوری قوم کو شعور اور تربیت دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے بارے میں عالمی سطح پر دہشتگردی کا تاثر سب سے بڑا المیہ ہے، جسے مدارس اپنی مثبت کارکردگی، امن و محبت کے پیغام اور عملی نتائج سے ختم کر سکتے ہیں۔

اختتامی اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر غلام قمر نے کہا کہ علامہ سید جواد نقوی ملک میں محبت، امن، تعلیم و تربیت اور وحدتِ امت کے فروغ کیلئے نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں، جو کہ قابل تحسین ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ  پاکستان کے قیام کے وقت ہمارا نعرہ مسلک نہیں بلکہ ‘پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ’ تھا۔ آج بھی ہمیں اسی پر یکجا ہونے اور تفرقہ ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ دشمن کو جواب دینے کا واحد راستہ اتحاد اور بین المسالک ہم آہنگی ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ جن تعلیمی و تربیتی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ریاست کا فرض تھا، آج وہ مدارس ادا کر رہے ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف دینی تعلیم دے رہے ہیں بلکہ عصری علوم اور مہارتوں سے بھی طلبہ کو آراستہ کر رہے ہیں اور قومی تعلیمی بورڈز میں نمایاں پوزیشنز حاصل کر رہے ہیں۔ مفتی زبیر فہیم نے کہا کہ معلم ایک عظیم منصب کا حامل ہے، جو سماج کا معمار ہے۔ اس میں تکبر کی گنجائش نہیں، بلکہ عاجزی، اخلاص اور تربیتی شعور اس کی پہچان ہونی چاہیے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مجمع المدارس جواد نقوی نے کہا کہ مدارس کے انہوں نے رہے ہیں

پڑھیں:

بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین کی جمعیت الوفاق الوطني الاسلامی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے اقدام کے ذریعے، جسے اس جماعت نے خطرناک اور جبری قرار دیا ہے، جعفری اوقاف ادارے کو تحلیل کرکے اسے ایک ایسے کونسل میں ضم کر دیا ہے جو سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ جمعیت الوفاق کے مطابق یہ اقدام شرعی احکام میں مداخلت، آئین کی خلاف ورزی اور ملک میں مذہبی آزادیوں سے متعلق رائج اصولوں اور روایات پر حملہ ہے۔ الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران بحرین یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس نوعیت کی مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت کے مطابق حکومت نے علاقائی حالات، کشیدگیوں اور جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعفری مکتبِ فکر کی مذہبی شخصیات، اداروں اور اوقافی املاک پر قبضے اور مداخلت کی راہ اختیار کی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ جمعیت الوفاق نے مزید کہا کہ یہ اقدامات شرعی ضوابط کی کھلی اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہیں، اور انہیں ایسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شہریوں کو احتجاج اور مخالفت سے روکنا ہے۔ جمعیت کے مطابق حکومت نے ان غیر قانونی اقدامات کے لیے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جو غیر اعلانیہ ہنگامی حالت سے مشابہ تھا اور جس میں سکیورٹی دباؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔ 

بیان میں کہا گیا کہ یہ سلسلہ سید محمد الموسوی کی مبینہ طور پر دورانِ حراست شہادت اور ان کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے شروع ہوا، جس پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے بعد بعض خاندانوں کی شہریت منسوخ کرنے، انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنے، مختلف علاقوں سے درجنوں علماء کی گرفتاری اور ان کی تصاویر کی تشہیر جیسے اقدامات سامنے آئے، جنہیں جمعیت نے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔ اسی طرح متعدد مساجد کو ائمہ جماعت سے محروم کرنے، دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور مذہبی منبروں کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔

جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسی دراصل ملک کی دینی اور سماجی ساخت پر حملے، اداروں کی بندش، املاک کی ضبطی اور ان کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک "سکیورٹی اور جابرانہ نظم" نافذ کرنے کی تمہید ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے اور شرعی، سماجی، قانونی و انسانی اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرمان نمبر (31) برائے سال 2026 ایک سیاسی نوعیت کا جبری فیصلہ ہے جو عوامی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بحرین کے ایک تاریخی اور اصیل ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ایسا زبردستی کا تغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدیوں پر محیط بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

جمعیت کے مطابق تاریخ اس اقدام کو بحرینی حکومت کی سب سے بڑی غلطیوں میں شمار کرے گی، کیونکہ یہ فطرت، دین، آزادی اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الوفاق نے زور دیا کہ یہ جبری فرمان ہزاروں اوقاف کی خیانت اور غصب کے مترادف ہے، جو مخصوص شرعی عناوین اور شرائط کے تحت وقف کیے گئے تھے اور جن میں سیاسی مداخلت یا ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وقف کا شرعی اور قانونی تشخص کسی حکومتی حکم یا فرمان سے تبدیل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات باطل اور شرعی و قانونی جواز سے محروم ہیں۔

جمعیت الوفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لے اور آمریت، ہٹ دھرمی اور ایسے منصوبے پر اصرار ترک کرے جو صرف طاقت، خوف اور شرعی احکام کی مخالفت کے سہارے ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اوقاف کو ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش، جسے مذہبی حلقے قبول نہیں کرتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو متعین کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام شراکت داری، جوازِ حکمرانی اور قومی ہم آہنگی کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بیان کے اختتام پر جمعیت الوفاق نے ایک "نئے سماجی معاہدے" کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جو عوامی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہو، تمام شہریوں اور سماجی طبقات کے حقوق کی ضمانت دے اور ان کے مستقبل، شناخت اور آزادیوں کے حوالے سے اعتماد اور اطمینان کو مضبوط بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم