پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج نوجوانوں کا دن منایا جارہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
پاکستان دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، نوجوانوں پر مشتمل اتنی بڑی آبادی رکھنے والے ملک میں تقریباً 40 فیصد نوجوان غیر تعلیم یافتہ ہیں، ہمیں نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف لے کرجانا ہوگا، ان کیلئے تعلیم، صحت اچھی خوراک کا بندوبست کرنا ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ نوجوان ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں، دنیا بھر میں آج نوجوانوں کا دن منایا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کا دن منانے کا مقصد نوجوانوں کو درپیش مسائل کے ازالے کیساتھ انہیں بے روزگاری سے بچانا ہے، دنیا کا ہر چوتھا نوجوان غربت کا شکار اور ہر پانچواں نوجوان روزگار سے محروم ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال 12 اگست کو نوجوانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے، اقوام متحدہ نے 1999ء میں 12 اگست کو نوجوانوں کے عالمی دن کے طور پر منانے کی قرارداد منظور کی، یوں 12 اگست 2000ء سے لے کر اب تک ہر سال ایک نئے تھیم کے ساتھ اس دن کو نوجوانوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد نوجوان نسل کو اہمیت دینے کے ساتھ ساتھ ان کو درپیش چیلنجز پر اقوام عالم کی توجہ دلوانا ہے، کسی بھی ملک کی ترقی اور مستقبل کا دارو مدار اس ملک کے نوجوانوں کو قرار دیا جاتا ہے۔
پاکستان دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، نوجوانوں پر مشتمل اتنی بڑی آبادی رکھنے والے ملک میں تقریباً 40 فیصد نوجوان غیر تعلیم یافتہ ہیں، ہمیں نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف لے کرجانا ہوگا، ان کیلئے تعلیم، صحت اچھی خوراک کا بندوبست کرنا ہوگا۔ ورلڈ یوتھ ڈے مطالبہ کرتا ہے کہ نوجوانوں کے مؤثر کردار کو اجاگر کیا جائے اور نوجوانوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نوجوانوں کو نوجوانوں کا
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔
ذرائع نے کہنا تھا کہ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے، وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کے لیے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے بھی شامل ہیں، ان منصوبوں کے لیے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع نے کہا کہ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔