تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ صحت، تعلیم کے ساتھ ساتھ زندگی گزارنے کی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں، شہر کراچی میں انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے، اہل کراچی پانی، بجلی، گیس سڑکیں، ٹرانسپورٹ کی سہولیات سے محروم ہیں، اس کے باوجود یہ شہر پورے پاکستان کی معیشت چلاتا ہے، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ تعلیم جماعت اسلامی کی اوّلین ترجیح ہے، اپنے 9 ٹاؤن کے تحت آنے والے تمام اسکولوں کو ماڈل اسکول بنائیں گے، پورے شہر میں الخدمت بنو قابل پروجیکٹ کے تحت آئی ٹی کورسز کا جال بچھا دیا ہے، ہزاروں بچے و بچیاں مفت آئی ٹی کورسز کر کے برسر روزگار ہو چکے ہیں، مختصر عرصے میں صرف لیاقت آباد ٹاؤن میں 9 اسکولوں کی تزئین و آرائش اور تعمیر ِ نو اور 16 پارکوں کو بحال و آباد کیا، علاقہ مکین ان اسکولوں میں داخلے کے لیے رابطے کر رہے ہیں، روڈ سائیڈ جنگل کے تصور کو عملی جامہ پہنایا گیا ہے، شجرکاری مہم تیزی سے جاری ہے، سندھ حکومت کا 631 ارب کا سالانہ بجٹ اگر نااہلی اور کرپشن کی نذر نہ ہو تو سندھ میں تعلیم کا بُرا حال نہیں ہوتا، حکومت اور ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے کیونکہ تعلیم ہی کے ذریعے ملک اور قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لیاقت آباد ٹاؤن کے تحت یوسی 7میں نواب صدیق علی خان اور شبلی نعمانی کے نام سے منسوب اسکولوں کی تعمیر نو اور تزئین آرائش کے بعد افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ صحت، تعلیم کے ساتھ ساتھ زندگی گزارنے کی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں، شہر کراچی میں انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے، اہل کراچی پانی، بجلی، گیس سڑکیں، ٹرانسپورٹ کی سہولیات سے محروم ہیں، اس کے باوجود یہ شہر پورے پاکستان کی معیشت چلاتا ہے، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز

وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔

ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔

ذرائع نے کہنا تھا کہ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے، وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کے لیے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے بھی شامل ہیں، ان منصوبوں کے لیے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع نے کہا کہ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت
  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ