پاکستان کی امریکا کے ساتھ خارجہ پالیسی کی کامیابی دراصل ٹرمپ کی مودی سے عارضی ناراضی کا نتیجہ ہے، حماد اظہر
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر نے کہا ہے کہ پاکستان کی امریکا کے ساتھ خارجہ پالیسی کی کامیابی دراصل ٹرمپ کی مودی سے عارضی ناراضی کا نتیجہ ہے، جس کے باعث وہ پاکستانی حکومت کو سہارا دے رہے ہیں۔
اپنے ایک ٹویٹ میں حماد اظہر نے کہا کہ حکومت اس نئے سفارتی اثر و رسوخ کو اندرونِ ملک مقبول قیادت پر کریک ڈاؤن کے لیے استعمال کر رہی ہے، بالکل اسی طرح جیسے امریکا میں ٹرمپ کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر نشانہ بنایا گیا۔
واضح رہے کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی تعریف بلومبرگ اور فنانشل ٹائمز جیسے عالمی جریدوں نے بھی کی ہے۔ صدر ٹرمپ بھی پاکستان کی کئی مواقع پر تعریف کرچکے ہیں جبکہ کل ہی امریکہ نے پاکستان کا دیرینہ مطالبہ مانتے ہوئے کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشتگرد تنظیم قرار دیا ہے ۔
تیسرا ون ڈے، پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کرلیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔