بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور امت شاہ کی جوڑی کا زوال شروع ہوگیا جب کہ ہندو انتہاپسند جماعت بی جے پی کی سلطنت میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں۔

بی جے پی اندرونی طور پر شدید انتشار اور بغاوت کا شکار ہو گئی ہے اور آر ایس ایس نے بھی  مودی سے منہ موڑ لیا ہے۔ مودی سرکار کے زوال کا آغاز شروع ہو چکا ہے۔ اسی طرح بہار انتخابات بی جے پی کے لیے موت یا زندگی کا امتحان ثابت ہونے والے ہیں۔

مودی کی اقتدار پر گرفت مسلسل کمزور ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے دی وائر کی مودی راج پر چشم کشا تحریر  شائع ہوئی ہے، جس کے مطابق بی جے پی 15 ریاستوں میں حکومت کے باوجود عوامی حمایت تیزی سے کھو رہی ہے۔ مودی سرکار نے ای ڈی، سی بی آئی اور انکم ٹیکس کو مخالفین کے خلاف سیاسی ہتھیار بنا دیا ہے۔

دی وائر کی رپورٹ کے مطابق مودی سرکار انکم ٹیکس، ای ڈی اور سی بی آئی کوسیاسی مخالفین کو دبانے اور منتخب حکومتیں گرانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا کو انتخابی کمیشن کی تقرری کمیٹی سے نکالنا مودی سرکار کا متنازع قدم تھا۔ ماضی کے  کانگریس سسٹم کے برعکس، مودی ایک خودمختار  بی جے پی سسٹم قائم کرنے میں ناکام رہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ معاشی ناکامیوں، سماجی تقسیم، بے روزگاری، مہنگائی اور سفارتی غلطیوں کی وجہ سے  عوامی عدم اطمینان بڑھ رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعلیٰ عہدوں میں مودی سرکار کی اکثریت، آئینی خود مختاری کمزور ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن پر کنٹرول کے لیے قانون بدلا گیا، چیف جسٹس کی جگہ وزیر کو شامل کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے اعلیٰ اہلکاروں کی تقرری میں حکومت کا کنٹرول آئینی آزادی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

دی وائر کے مطابق  چیف جسٹس کو الیکشن پینل سے ہٹانے کے بعد شفاف انتخابات پر عوامی اعتماد متزلزل ہوا ہے۔ مودی کے سوشل میڈیا حملوں کے باوجود راہول گاندھی عوام کے سامنے نئے جوش و جذبے کے ساتھ ابھرے ہیں۔ راہول گاندھی کی نشاندہی سے ایس آئی آر میں انتخابی بے ضابطگیاں منظر عام پر آئیں اور ان کی بھارت جوڑو یاترا نے عوام کو جوڑ دیا، جس سے بی جے پی کے مضبوط قلعے ہلنے لگے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بہار کی شکست مودی حکومت کے زوال کا آغاز ثابت ہوگی۔ 2024ء  کے لوک سبھا انتخابات میں مودی کی بی جے پی 60 سے زائد سیٹیں ہار گئی تھی۔ مودی کا  میک انڈیا گریٹ اگین کا نعرہ ناکام ثابت ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر بھارت کے اثرورسوخ میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی ناکام، چین  امریکا اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

مودی ماڈل کی ناکامی نےبھارت  میں مہنگائی، بے روزگاری اور سماجی تقسیم کے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مودی سرکار کے مطابق بی جے پی رہی ہے

پڑھیں:

ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔

امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔

امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔

پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر