تیانجن (نیوز ڈیسک) چین کے صدر شی جن پنگ نے ایک نئے عالمی سلامتی اور معاشی نظام کا تصور پیش کیا ہے جو خاص طور پر گلوبل ساؤتھ ممالک کو مرکز میں رکھتا ہے۔ یہ اعلان پیر کو شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس میں کیا گیا، جس میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی شریک تھے۔

امریکا کے خلاف پیغام

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر شی کا یہ اقدام امریکا کے اثر و رسوخ کے لیے ایک براہِ راست چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ دنیا ایک نئے موڑ پر ہے جہاں بالادستی اور طاقت کی سیاست کی کوئی جگہ نہیں۔ ان کے مطابق مستقبل کا عالمی نظام یورپ یا اٹلانٹک طرز کا نہیں ہوگا بلکہ توازن اور حقیقی کثیرالجہتی پر مبنی ہوگا۔

روس اور بھارت کی موجودگی

اس اجلاس میں روسی صدر پوٹن اور بھارتی وزیراعظم مودی کی موجودگی نے اس پلیٹ فارم کو مزید وزن بخشا۔ ایک علامتی منظر میں تینوں رہنما ہنستے مسکراتے ایک دوسرے کی طرف بڑھتے دیکھے گئے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چاہے یہ منظر طے شدہ ہو یا فطری، اس نے امریکا کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ چین، روس اور بھارت دباؤ میں آنے والے نہیں۔

مودی اور پوٹن کی قربت

اجلاس کے بعد مودی اور پوٹن نے ایک ساتھ روسی بکتر بند گاڑی Aurus میں سفر کیا اور دو طرفہ ملاقات بھی کی۔ مودی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ پوٹن کے ساتھ گفتگو ہمیشہ بصیرت افروز ہوتی ہے، جبکہ پوٹن نے مودی کو روسی زبان میں محترم وزیراعظم، عزیز دوست کہہ کر مخاطب کیا۔

شمالی کوریا اور فوجی پریڈ

بدھ کو ہونے والی پریڈ میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی شرکت بھی متوقع ہے جہاں جدید فوجی ساز و سامان کی نمائش ہوگی۔

چین بھارت تعلقات

اس دوران بیجنگ نے بھارت کو قریب لانے کی بھی کوشش کی۔ شی اور مودی کی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چین اور بھارت حریف نہیں بلکہ ترقی کے شراکت دار ہیں۔

پس منظر

ماہرین کے مطابق صدر شی جن پنگ کا خطاب امریکا کے سابق صدر ٹرمپ کی محصولات کی پالیسیوں پر بالواسطہ تنقید بھی تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا سمجھتا ہے کہ تجارتی دباؤ سے وہ چین، بھارت یا روس کو پیچھے ہٹا سکتا ہے تو یہ اجلاس اس کے برعکس تصویر پیش کرتا ہے۔

Post Views: 8.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اور بھارت

پڑھیں:

امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔

ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔

متعلقہ مضامین

  • 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟